قابض اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر اپنی غاصبانہ پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے ایک 13 سالہ فلسطینی بچے کو گولی کا نشانہ بنا کر شہید کردیا ہے۔
طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ 13 سالہ عبدالرحمان شادی مصطفیٰ کو عایدہ مہاجر کیمپ میں فلسطینی نوجوانوں اور بھاری اسلحے سے لیس اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران سینے میں گولی لگنے سے جان لیوا زخم ہوا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی ماہر نشانہ باز [اسنائپر] نے ان کو دل میں گولی ماری اور انہیں شدید زخمی حالت میں بیت جلا ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں پر آمد کے بعد انہوں نے آخری سانس لیا۔
اس شہادت کے بعد جمعرات کے روز سے شروع ہونیوالی اسرائیلی کارروائیوں میں قابض فوجیوں کے ہاتھوں سے شہید ہونے والے فلسطینی کی تعداد چار تک پہنچ گئی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار