اسرائیل نے فلسطین کی جانب سے جرائم کی عالمی عدالت میں رکنیت کی درخواست جمع کرانے کے درعمل کے طور پر فلسطین کو محصولات کی مد میں ملنے والی 12 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم کی منتقلی روک دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ 12 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی جو رقم محصولات کی مد میں فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے اسرائیل نے وصول کی تھی وہ انھیں منتقل نہیں کی جائے گی۔
فلسطینی حکام کی جانب سے اسرائیل کے جابرانہ اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک اور جنگی جرم قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے حکومتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہم فلسطینیوں کی طرف سے اپنے خلاف ہر اقدام کا دفاع کریں گے، اگر جنگی جرائم کے مقدمات کی نوبت آئی تو اسرائیل کے پاس بھی فلسطین کے خلاف بہت بہت سے شواہد موجود ہیں۔
واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے آئی سی سی میں رکنیت حاصل کرنے کے لئے 2 روز قبل ہی اقوام متحدہ میں درخواست جمع کرائی تھی جس کی امریکہ اور اسرائیل نے شدید مخالفت کی ہے۔ بین الاقوامی جرائم کی عدالت میں رکنیت حاصل کرنے کے بعد فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات چلانے کی درخواست کر سکتی ہے۔ اس سے قبل 2014 میں بھی اسرائیل نے ٹیکسوں کی رقوم فلسطینی اتھارٹی کو دینے سے انکار کر دیا تھا۔
ایکسپریس نیوز
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…