العربیہ ٹی وی کے مطابق محمد الزھرانی کے نام سے مشہور جنگجو کیوبا کے جزیرہ گوانتانامو میں قائم بدنام زمانہ امریکی حراستی مرکز میں ان 142 القاعدہ جنگجوئوں میں شامل تھا جنہیں امریکی صدر براک اوباما نے اپنی مدت صدارت کے اختتام سے قبل دوسرے ملکوں میں بھیجنے اور جیل بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق محمدالزھرانی کی گوانتانامو حراستی مرکز سے رہائی سے قبل قیدیوں پر نظر رکھنے والی فالو اپ کمیٹی کی جانب سے اس کی وطن واپسی کی سفارش کی گئی تھی۔ الزھرانی کی واپسی صدر اوباما کی جیل کو بند کرنے کی کوششوں کی ایک کڑی سمجھی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ 44 سالہ سعودی محمد الزھرانی گذشتہ بارہ سال سے گوانتانامو میں قید تھا۔ گذشتہ اکتوبر تک اسے امریکی مفادات کے لیے سنگین خطرہ ہی قرار دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم تین اکتوبر کو فالو اپ کمیٹی کی جانب سے اسے سعودی عرب واپس کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا گیا۔
سعودی عرب کو واپس کیے جانے کے سے قبل امریکی محکمہ دفاع وخارجہ اور چھ مخلتف تحقیقاتی ایجنسیوں پر مشتمل فالو اپ کمیٹی نے اس کے امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہونے کے تاثر کی نفی کی اور کہا کہ اب وہ امریکا کے لیے خطرہ نہیں بن سکتا۔
وزارت دفاع کے مطابق سعودی جنگجو کو اس کے ملک کے حوالے کرنے کے فیصلے کے بارے میں کانگریس کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگجو محمد الزھرانی کی گوانتانامو جیل سے رہائی سعودی حکام سے اتفاق رائے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔
العربیہ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…