Categories: پاکستان

حرکت المجاہدین کے بانی فضل الرحمان خلیل عالمی دہشت گرد قرار

امریکہ نے شدت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے بانی اور جہادی رہنما فضل الرحمان خلیل سمیت تین پاکستانی شہریوں کو عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

امریکی محکمۂ خزانہ نے لاہور میں قائم دو نجی کمپنیوں پر شدت پسند تنظیم لشکرِ طیبہ کی مالی مدد کا الزام عائد کرتے ہوئے ان پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔
فضل الرحمان خلیل کون ہیں؟
ان پابندیوں کا اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر براک اوباما نے لشکرِ طیبہ سمیت شدت پسند تنظیموں کے خلاف مشترکہ کارروائیوں پر اتفاق کیا ہے۔
محکمۂ خزانہ کی جانب سے منگل کو جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمان خلیل کی حزب المجاہدین اور لشکرِ طیبہ تشدد پسند دہشت گرد تنظیمیں ہیں جو کہ دہشت گردوں کی تربیت اور ان کی سرگرمیوں کی سرپرستی اور القاعدہ سمیت دیگر انتہا پسند گروہوں کی مدد میں ملوث ہیں۔
دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس کے معاملات سے منسلک امریکی محکمے کے افسر ڈیوڈ ایس کوہن کا کہنا ہے کہ ’آج کی پابندیاں ان دہشت گرد تنظیموں کی ان کے مالی نیٹ ورکس تک رسائی کی کوششوں کو درہم برہم کریں گی۔‘
حزب المجاہدین کے بانی فضل الرحمان خلیل کے بارے میں امریکی حکام نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم کو 1997 میں ہی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا تھا اور وہ خود حزب المجاہدین کے امور کی انجام دہی میں براہِ راست ملوث ہیں اور تنظیم کے تمام اہم مالی فیصلے وہی کرتے ہیں۔
بیان میں فضل الرحمان خلیل کو القاعدہ کا قریبی ساتھی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے قبل ان کے فضل الرحمان خلیل سے قریبی روابط تھے۔
فضل الرحمان خلیل کے علاوہ دہشتگرد قرار دیے جانے والے پاکستانی شہریوں میں محمد نعیم شیخ اور عمیر نعیم شیخ شامل ہیں اور امریکہ کا الزام ہے کہ یہ دونوں افراد لشکر طیبہ کے اہم مالی معاون ہیں۔
امریکی حکومت نے کہا ہے کہ ان دونوں افراد کی زیر ملکیت دو کمپنیوں کو بھی دہشتگردوں کی عالمی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ان کمپنیوں میں نعیم شیخ کی لاہور میں قائم ٹیکسٹائل، چمڑے اور جوتے بنانے والی عبدالحمید شہاب الدین کمپنی اور عمیر نعیم شیخ کی کیمیکل مصنوعات بنانے والی کمپنی نِیا انٹرنیشنل شامل ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے بعد فضل الرحمن خلیل سمیت ان تینوں افراد اور کمپنیوں کے امریکہ یا امریکی شہریوں کے کنٹرول میں موجود تمام اثاثے منجمد ہوگئے ہیں اور اب امریکی شہری ان کے ساتھ کوئی لین دین نہیں کر سکیں گے۔
امریکی حکام لشکر طیبہ اور اس سے تعلق رکھنے والے 27 افراد اور تین اداروں کو پہلے ہی دہشتگرد قرار دے چکے ہیں جبکہ لشکر طیبہ کو اقوام متحدہ نے بھی دہشتگرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔
امریکہ اور بھارت لشکر طیبہ کو بھارت میں سنہ 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ان حملوں میں 166 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
منگل کو واشنگٹن میں امریکی صدر نے بھارتی وزیراعظم سے ملاقات میں لشکرِ طیبہ، جیش محمد، ڈی کمپنی اور حقانی نیٹ ورک جیسے دہشتگرد اور جرائم پیشہ گروہوں کی محفوظ پناہ گاہیں اور ان کی مالی اور اخلاقی حمایت ختم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق بھی کیا ہے۔

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago