یہ ایک شخص کی رائے تھی جسے مبالغہ آرائی کی حد تک اچھال کر ایک نیا تنازع پیدا کرنے کی سازش کی گئی ہے۔
مسجد حرام اور مسجد نبوی کے نگراں ادارے کے ترجمان احمد المنصوری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ حجرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی دوسرے مقام پر منتقلی کا کوئی پروگرام نہیں بنایا گیا اور نہ ہی حکومت کی طرف سے ایسی کوئی متنازعہ تجویز دی گئی ہے۔ مسجد نبوی کی توسیع سےمتعلق ایک رپورٹ کی تیاری میں ایک انجینیئر کی رائے تھی کہ توسیعی کام کے باعث روضہ رسول متاثر ہو سکتا ہے، اس پہلو سے قبر رسول کی جگہ کی تبدیلی کی بات سامنے آئی تھی۔
ترجمان نے کہا کہ سعودی حکومت اسلام کی خادم اور الحرمین الشریفین کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔ اس نوعیت کی متنازعہ تجاویز پر عمل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی حمایت کی جائے گی۔ کسی فرد واحد کی رائے کو حکومت پر تھوپنے کی کوشش نہ کی جائے۔
ترجمان نے کہا کہ الحرمین الشریفین کے سر پرست ادارے کی جانب سے ذرائع ابلاغ اور عوم الناس کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ قبرل رسول کی متبادل مقام پر منتقلی کی افواہوں پر کان نہ دھریں بلکہ حقائق کو سامنے رکھیں۔ مرقد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بھی دوسرے مقام پر منتقلی ممکن ہی نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی بات کی جانی چاہیے۔ اس نوعیت کی خبریں اور افواہیں پھیلانے والے فتنہ پرور لوگ ہیں جو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے مسلمانوں میں تنازعات کو ہوا دے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں برطانیہ کے دو اخبارات نے ایک خبر شائع کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی حکومت مسجد نبوی کی توسیع کے منصوبے کے تحت قبرل رسول کی متبادل مقام پر منتقلی کا ارادہ رکھتی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار