غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے یونیسیف کے ترجمان سائمن انگرام کا کہنا ہے کہ امداد کے منتظر شامی بچوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں یہ تعداد تین گُنا تک پہنچ چکی ہے، جون 2013 میں یہ تعداد 20 لاکھ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کو امدادی کاموں کے لیے رواں برس تک درکار 770 ملین امریکی ڈالرز میں سے اب تک محض 37 رقم ہی ملی ہے، اگر مزید امدادی رقم نہ مل سکی تو امدادی کام روکنے پر مجبور ہوں گے جس سے بچوں کے لیے صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ مارچ 2011 سے شام میں شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد لوگ ہلاک جب کہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں اور ہزاروں افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب صرف اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہا ہے کہ صرف شام میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد کو خوراک کی ضرورت ہے جس میں سے تقریبا 50 لاکھ بچے شامل ہیں جب کہ بڑی تعداد میں دوسرے ممالک میں پناہ لئے مہاجرین کو بھی امداد کی اشد ضرورت ہے۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان