عراقی حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شام کی سرحد کے قریب قائم قصبے کے ایک گاؤں ہر داعش کا قبضہ ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ داعش نے اس گاؤں پر عراقی فوجوں کے ساتھ دن بھر کی لڑائی کے بعد کنٹرول حاصل کیا جس میں تیس عراقی فوجی ہلاک ہوئے۔
داعش نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے دریائے فرات کے قریب دو قصبوں راوہ اور انھہ پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شام کے ساتھ سرحدی کراسنگ پر قبضے سے شدت پسند تنظیم داعش کے جنگجوؤں کے لیے ترسیل کا ایک راستہ کُھل گیاہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سرحدی کراسنگ پر کنٹرول حاصل کرنے سے داعش کو دیگر علاقوں میں اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں آسانی ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ دولت اسلامی عراق و شام (داعش) نے عراق کے کئی شہروں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
داعش کا دعویٰ ہے کہ اس نے شمالی عراق میں بیجی کی آئل ریفائنری اور تل عفر کے ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے لیکن عراقی حکام اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔
تاہم حکومت اس بات کی تشدیق کرتی ہے کہ بیجی کی آئل ریفائنری اور تل عفر کے ہوائی اڈے پر اسلامی شدت پسند تنظیم زبردست حملے کر رہی ہے۔
اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق و شام (داعش) نے دارالحکومت بغداد پر شمالی کی جانب سے دباؤ رکھا ہوا ہے جہاں لڑائی جاری ہے۔ لیکن اب داعش کے جنگجو مغرب کی جانب سے بھی حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔
شدت پسند تنظیم نے جہاں قائم کی سرحدی کراسنگ پر قبضہ کر لیا ہے وہاں ان کا دعویٰ ہے کہ اس نے قریبی قصبے قائم پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ راوہ پر بھی اس تنظیم کا کنٹرول ہےگ
راوہ کے جنوب مشرق میں واقع انھہ کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ اس پر داعش کا کنٹرول ہے اور اس کے قریب ہی واقع عراقی فوج کا ریجنل ہیڈ کوارٹر کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔
انبار قصبہ قبائلی علاقہ ہے اور داعش کا کہنا ہے کہ وہ مقامی قبیلوں کے ساتھ بغیر لڑائی کے قصبوں اور دیہاتوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔
رواس سال جنری سے داعش بغداد سے 30 کلومیٹر دور فلوجہ پر قابض ہے اور رمادی کے بھی زیادہ تر حصوں پر اس کا کنٹرول ہے۔
دولت اسلامی عراق و شام کی کوشش ہے کہ فلوجہ اور رمادی جائیں تاکہ سام کے ساتھ سرحد سے لے کر پوری وادی فرات پر قابض ہو جائیں۔
تاہم حکومت کے کنٹرول میں دو قصبے ہیں، ہیت اور حدیثہ، جو داعش کے منصوبے کو پورا نہیں ہونے دے رہے۔
اگر داعش کے جنگجو ان دو علاقوں پر قبضہ کر لیں تو وہ رمادی کا پورا کنٹرول حاصل کر لیں گے اور مغرب سے بغداد پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں آ جائیں گے۔
________________________________________
یاد رہے کہ ہفتے کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں مقتدیٰ الصدر کے اعلان پر شیعہ ملیشیا کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر پریڈ کی جس کے باعث بغداد میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
مقتدیٰ الصدر نے شیعہ ملیشیا سے کہا تھا کہ وہ بغداد کی سڑکوں پر عسکری قوت کا مظاہرہ کریں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شیعہ ملیشیا کی جانب سے عسکری قوت کے مظاہرے کے بعد بغداد میں حکومت کے لیے کافی مشکل صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
امکان ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری جلد ہی عراق جائیں گے جہاں وہ ملک کے مختلف فرقوں کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے اس بات پر زور دیں گے کہ عراقی کابینہ میں تمام فرقوں کو نمائندگی دی جائے۔
عراقی وزیرِاعظم نوری المالکی پر الزام رہا ہے کہ ان کی سنی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے کچھ سنی شدت پسند جہادی تنظیم دولت اسلامی عراق و شام میں شامل ہوگئے ہیں اور عراقی فوجیوں کے خلاف جاری لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔
داعش کے جنگجو بغداد سے 70 میل دور کیمیائی ہتھیاروں کے ایک متروک کارخانے پر پہلے ہی قبضہ کر چکے ہیں۔
اگرچہ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کارخانے میں ایسا کوئی مواد نہیں ہے جس سے باغی کیمیائی ہتھیار بنا سکیں، لیکن امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اگر داعش کے عسکریت پسند کسی بھی فوجی تنصیب پر قبضہ کر لیتے ہیں تو ہمیں فکر ہوگی۔‘
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…