غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کی سرحد سے متصل عراقی سرحدی علاقے القائم میں سیکیورٹی فورسز اور داعش کے درمیان بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا اور گھمسان کی جنگ کے دوران 34 عراقی اہلکار ہلاک ہوگئے، جمعرات کی شب سے جاری لڑائی جمعہ کی سہہ پہر تک جاری رہی جس کے دوران عراقی سیکیورٹی فورسز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق فورسز کے مقابلے میں داعش کے جنگجو جدید ہتھیاروں سے مسلح ہیں جس کی وجہ سے وہ کامیاب کارروائیاں کر رہے ہیں جبکہ تازہ طویل ترین لڑائی کے بعد القائم کے مکین محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے فضائی حملوں سے معذرت کئے جانے کے بعد عراقی وزیراعظم نوری المالکی کو شدید تنقید کا سامنا ہے جبکہ عراقی رہبر اعلیٰ آیت اللہ السیستانی نے نومنتخب پارلیمنٹ سے درخواست کی ہے وہ بغیرکسی دیر کئے نئی حکومت تشکیل دیں تاکہ عراق کے مسئلے پر جلد از جلد قابوپایا جاسکے۔
واضح رہے کہ عراق میں حکومت مخالف عسکری تنظیم داعش نے ملک کے دوسرے بڑے صوبے موصل سمیت کئی شہروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جبکہ شام اور عراق کا سرحدی علاقہ بھی داعش کے کنٹرول میں آچکا ہے۔
اکسپریس نیوز
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…