بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی 16ویں منتخب پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی تعداد تاریخ میں سب سے کم ہے اور حالیہ انتخابات میں 543 نشستوں میں سے صرف 20 مسلمان کامیابی حاصل کرپائے، ریاست اترپردیش کی 80 نشستوں میں سے کوئی بھی مسلمان امیدوار کامیابی حاصل نہ کرسکا، مغربی بنگال سے کانگریس کے ٹکٹ پر 2، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے 2 اور ترینامول کانگریس کے 3 جبکہ ریاست بہار سے راشٹریہ جنتا دل، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، لوک جنشکتی پارٹی اور کانگریس کے ایک، ایک مسلمان امیدوار کامیاب ہوئے۔
اسی طرح مقبوضہ جموں کشمیر سے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر 3، آسام سے آل انڈیا یونائٹد ڈیموکریٹک فرنٹ کے 2، لکشدویپ سے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ایک ، ریاست تامل ناڈو کے شہر رماناتھاپورم سے ’’اے آئی اے ڈی ایم کے‘‘ کے ایک اور حیدر آباد دکن سے مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما لوک سبھا میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے تاہم 30 سال بعد ایوان میں تنہا حکومت بنانے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے 282 کامیاب امیدواروں میں سے کوئی ایک بھی مسلمان نہیں جس سے انتہا پسند جماعت کی مسلمانوں سے نفرت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ اپنی معیاد پوری کرنے والی 15ویں لوک سبھا میں مسلمان ارکان کی تعداد 25 تھی۔
ایکسپریس نیوز
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…