غیر ملکی میڈیا کے مطابق مختلف شعبوں میں کاروباری، مالی اور مشاورتی معاونت فراہم کرنے والے بین الاقوامی گروپ ’’ورجن‘‘ کے سربراہ رچرڈ برینسن نے اعلان کیا ہے کہ آج کے بعد ان کی کمپنی کا کوئی ملازم یا ان کا گھر والا برونائی داراالسلام کے بادشاہ کے ہوٹل میں قیام نہیں کرے گا، ان کا ادارہ ایسے کسی بھی ادارے کے ساتھ کاروباری تعلق بھی نہیں رکھے گا جس کا حسن البولکیہ سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق ہوگا۔ اس کے علاوہ امریکا میں حقوق نسواں کی علمبردار تنظیم ’’فیمینسٹ‘‘ نے بھی نیو یارک میں حسن البولکیا ہی کے ہوٹل میں منعقدہ سالانہ عالمی حقوق نسواں ایوارڈز کی تقریب منسوخ کردی ہے۔
واضح رہے کہ برونائی دارالسلام کے بادشاہ نے گزشتہ برس ملک میں شرعی قوانین کے نفاذ کے لئے ضروری قانون سازی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت گزشتہ دنوں انہوں نے ملک میں شریعت کو عملی طور پر نافذ کردی تھی۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید