حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان جب بھی کسی تھکاوٹ‘ بیماری‘ فکر‘ رنج و ملال‘ تکلیف اور غم سے دوچار ہوتا ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہوں کو معاف فرمادیتے ہیں۔ (بخاری)۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن شہید کولایا جائے گا اور اس کو حساب کتاب کیلئے کھڑا کیا جائے گا۔ پھر صدقہ کرنے والے کولایا جائے گا اور اس کو بھی حساب کتاب کیلئے کھڑا کردیا جائے گا پھر ان لوگوں کو لایا جائے گا جو دنیا میں مختلف مصیبتوں اور تکلیفوں میں مبتلا رہے ان کیلئے نہ میزان عدل قائم ہوگی اور نہ ان کیلئے کوئی عدالت لگائی جائے گی۔ پھر ان پر اجرو انعام اتنے برسائے جائیں گے کہ وہ لوگ جو دنیا میں عافیت سے رہے۔ اس بہترین اجرو انعام کو دیکھ کر تمنا کرنے لگیں کہ ان کے جسم (دنیا میں) قینچیوں سے کاٹ دئیے گئے ہوتے (اور اس پر وہ صبر کرتے) (طبرانی‘ مجمع الزوائد)۔حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ لوگوں سے محبت فرماتے ہیں تو ان کو (مصیبتوں میں ڈال کر) آزماتے ہیں چنانچہ جو صبر کرتا ہے اس کیلئے صبر (کااجر) لکھ دیا جاتا ہے اور جو بے صبری کرتا ہے تو اس کیلئے بے صبری لکھ دی جاتی ہے (پھر وہ روتا پیٹتا ہی رہتا ہے۔) (مسنداحمد‘ مجمع الزوائد)۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایمان والا بندہ اور ایمان والی بندی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصائب اور حوادث آتے رہتے ہیں کبھی اس کی جان پر‘ کبھی اس کی اولاد پر‘ کبھی اس کے مال پر (اور اس کے نتیجہ میں اس کے گناہ جھڑتے رہتےہیں) یہاں تک کہ وہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرتا ہے کہ اس کا ایک گناہ بھی باقی نہیں رہتا۔ (ترمذی)
عبقری میگزین
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار