بھارت میں عام انتخابات کے پہلے دور کا آغاز

بھارت میں پیر کو لوک سبھا کی چھ نشستوں پر پولنگ کے ساتھ ہی 2014 کے عام انتخابات کا آغاز ہوگیا ہے جو کہ دنیا میں سب سے بڑا انتخابی عمل قرار دیا جا رہا ہے۔

ان انتخابات کے دوران ملک بھر میں نو مرحلوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے اور 12 مئی کو آخری مرحلے کی ووٹنگ مکمل ہونے کے چار دن بعد 16 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد نتائج کا اعلان ہوگا۔
81 کروڑ 45 لاکھ سے زیادہ بھارتی شہری انتخابات میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں اور یہ تعداد 2009 کے الیکشن سے دس کروڑ زیادہ ہے۔
ووٹنگ کے عمل کے لیے الیکٹرانک مشینوں کی مدد لی جا رہی ہے اور پہلی مرتبہ رائے دہندگان کو کسی بھی امیدوار کو نہ چننے کی ’آپشن‘ بھی دی گئی ہے۔ ایسے ووٹر ’ان امیداروں میں سے کوئی نہیں‘ والا بٹن دبا کر اپنی رائے دے سکیں گے۔
پیر کو الیکشن کے پہلے دور میں شمال مشرقی ریاست آسام میں پانچ اور تری پورہ میں ایک نشست کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے اور پولنگ صبح سات بجے سے شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔
ووٹنگ کے آغاز پر پولنگ مراکز پر لوگوں کی بڑی تعداد قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنی باری کی منتظر دکھائی دی ہے۔
آسام کی پانچوں سیٹوں پر کانگریس، بی جے پی، ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی، سی پی ایم اور سماج وادی پارٹی سمیت کئی جماعتوں نے اپنے امیدوار سامنے لائے ہیں۔
ان نشستوں کے لیے کل 51 امیدوار میدان میں ہیں جن میں کانگریس کی طرف سے مرکزی وزیر رانی ناراہ، پبن سنگھ گھاٹووار، سابق مرکزی وزیر اور موجودہ ایم ایل اے بجی کرشنا ہاڈك، آسام کے وزیر اعلی ترون گوگوي کے بیٹے فخر گوگوي اور بھوپن کمار بورا شامل ہیں۔
وہیں بی جے پی کے اہم امیدواروں میں ریاست کی اکائی کے صدر سورباندا سونووال اور كاماكھيا پرساد تاسا شامل ہیں۔
بائیں بازو کی حکومت والے علاقے تری پورہ میں مقابلہ کثیر رخی ہے جہاں سی پی ایم، کانگریس، بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے امیدوار میدان میں ہیں۔
آسام میں اس بار علیحدگی پسند تنظیم الفا کے کسی بھی گروہ نے نہ تو لوگوں سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے اور نہ ہی کسی پارٹی کے خلاف کوئی بیان دیا ہے۔
آسام میں کانگریس کو خاصا مضبوط سمجھا جاتا ہے اور اس جماعت اپنے منشور میں وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو ملک میں عوامی فلاح کی سکیمیں شروع کرے گی جن میں ہر کسی کے لیے صحتِ عامہ کی سہولیات اور بزرگ اور معذور افراد کے لیے پینشن بھی شامل ہے۔
بی جے پی نے اب تک انتخابات کے لیے اپنا منشور تک جاری نہیں کیا ہے لیکن وزیراعظم کے عہدے کے لیے جماعت کے امیدوار نریندر مودی کے بہتر بنیادی ڈھانچے، مضبوط قیادت، روزگار کے مواقع اور بہتر گورننس سے متعلق وعدے کیے گئے ہیں۔
اس مرتبہ بھارتی الیکشن میں ایک نئی جماعت عام آدمی پارٹی بھی شریک ہے جس نے دہلی کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں نتائج سے سب کو حیران کر دیا تھا۔
بھارت کی پارلیمان کا ایوانِ زیریں یا لوک سبھا 543 نشستوں پر مشتمل ہے اور کسی بھی جماعت یا اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے کم از کم 272 نشستیں درکار ہوں گی۔

بی بی سی اردو

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago