ترکی کے صوبہ “ہاتائی” کے گورنر کے دفتر سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پیر کے روز شام سے متصل قصبے میں شام سے داغا گیا ایک میزائل مسجد پر گرا اور مارٹر گنوں سے فائر کیے گئے کچھ گولے بھی ترکی کے علاقے میں گرے ہیں۔ جس کے بعد فوج نے جوابی کارروائی کی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شام سے داغے گئے کچھ راکٹ پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کے قریب مسجد اور کچھ کھلے کیھتوں میں گرے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک خاتون زخمی ہوئی ہے۔ شام کی جانب سے راکٹ حملوں کے جواب میں ترک فوج نے توپخانے سے شام میں گولہ باری کی ہے۔
ادھر تُرک خبر رساں ایجنسی “دوجان” کی رپورٹ کے مطابق شام کے آرمینی مسیحی اکثریتی قصبے “کسب” میں بشار الاسد اور شدت پسند اسلامی جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی کے دوران تین راکٹ ترکی کے علاقے میں بھی گرے، جس کے جواب میں ترک فوج نے شام کے اندر گولہ باری کی ہے۔
خیال رہے کہ دس روز قبل اسلامی شدت پسندوں نے اسد نواز فوجیوں کو “کسب” قصبے سے نکال باہر کرتے ہوئے ترکی سے متصل گذرگاہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد شامی فوج نے اپنی حامی ملیشیا کی مدد سے کسب کے علاقے پر باغیوں کے خلاف ایک بڑا حملہ کیا ہے۔
العربیہ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان