محمود عباس نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں ایک اجلاس کی صدارت کے بعد نشری بیان میں کہا ہے کہ ”فلسطینی قیادت نے اتفاق رائے سے ایک فیصلے کی منظوری دی ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کے پندرہ اداروں اور بین الاقوامی معاہدوں کی رکنیت حاصل کی جائے گی اور اس کا آغاز چوتھے جنیوا کنونشن سے کیا جائے گا”۔
انھوں نے کہا کہ ”ہم امریکا کے خلاف نہیں ہیں جو ہماری مدد کررہا ہے اور ہم کسی سے محاذ آرائی کے لیے اپنے اس حق کو استعمال نہیں کرنا چاہتے ہیں بلکہ ہم مذاکرات کو جاری رکھیں گے”۔
انھوں نے یہ بیان تنظیم آزادیٔ فلسطین (پی ایل او) کی سینیر قیادت کے اجلاس کے بعد جاری کیا ہے۔اس اجلاس میں اسرائیل کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں تعطل کے بعد فلسطینیوں کے نئے لائحہ عمل پر غور کیا گیا ہے۔
فلسطینی صدر کی جانب سے اس فیصلے کے اعلان سے چندے قبل ہی اسرائیل نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے دورے کے موقع پر مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے سات سو سے زیادہ نئے مکانوں کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کیے ہیں اور اس طرح امن عمل کو پوری قوت کے ساتھ سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری اس کو بچانے کے لیے کوشاں تھے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار