محمود عباس نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں ایک اجلاس کی صدارت کے بعد نشری بیان میں کہا ہے کہ ”فلسطینی قیادت نے اتفاق رائے سے ایک فیصلے کی منظوری دی ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کے پندرہ اداروں اور بین الاقوامی معاہدوں کی رکنیت حاصل کی جائے گی اور اس کا آغاز چوتھے جنیوا کنونشن سے کیا جائے گا”۔
انھوں نے کہا کہ ”ہم امریکا کے خلاف نہیں ہیں جو ہماری مدد کررہا ہے اور ہم کسی سے محاذ آرائی کے لیے اپنے اس حق کو استعمال نہیں کرنا چاہتے ہیں بلکہ ہم مذاکرات کو جاری رکھیں گے”۔
انھوں نے یہ بیان تنظیم آزادیٔ فلسطین (پی ایل او) کی سینیر قیادت کے اجلاس کے بعد جاری کیا ہے۔اس اجلاس میں اسرائیل کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں تعطل کے بعد فلسطینیوں کے نئے لائحہ عمل پر غور کیا گیا ہے۔
فلسطینی صدر کی جانب سے اس فیصلے کے اعلان سے چندے قبل ہی اسرائیل نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے دورے کے موقع پر مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے سات سو سے زیادہ نئے مکانوں کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کیے ہیں اور اس طرح امن عمل کو پوری قوت کے ساتھ سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری اس کو بچانے کے لیے کوشاں تھے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام