امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے شعبے کی طرف ایسی چیزوں کو ہٹایا گیا ہے جو لوگ اپنے ورثے کے طور پر اسلامی سمجھ کر جاری رکھے ہو ئے ہیں۔ حالانکہ اسلام پختہ قبروں اور گنبدوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا ہے۔
اس سلسلے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے کمیشن ، میونسپلٹی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو زینت نامی قبرستان کے معاملے کا جائزہ لے گی۔
شہریوں نے مذہبی پولیس پر الزام لگایا ہے کہ یہ ادارہ تین ہزار سالہ قدیمی اور تاریخی قبرستان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ بعض شہریوں کا موقف ہے کہ یہ قبرستان شہر کا ورثہ ہے، اس کی حفاظت کی جانی چاہیے۔
مورخ سعد الکاموخ کے مطابق اس قبرستان میں ایسے لوگ بھی دفن ہیں جن کے بارے میں گمان ہے کہ سورج کی پوجا کرتے تھے۔ کیونکہ اکثر قبروں کا رخ مشرق کی طرف ہے۔
بہت ساری قبریں اتنی قدیم ہیں ان کا رخ قبلہ اول بیت المقدس کی طرف ہے۔ بعض قبروں پر عربی کا قدیمی رسم الخط تحریر ثبت ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہر احمد قشاش نے کہا ” 1500 سے زائد اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبریں بھی
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…