امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے شعبے کی طرف ایسی چیزوں کو ہٹایا گیا ہے جو لوگ اپنے ورثے کے طور پر اسلامی سمجھ کر جاری رکھے ہو ئے ہیں۔ حالانکہ اسلام پختہ قبروں اور گنبدوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا ہے۔
اس سلسلے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے کمیشن ، میونسپلٹی پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو زینت نامی قبرستان کے معاملے کا جائزہ لے گی۔
شہریوں نے مذہبی پولیس پر الزام لگایا ہے کہ یہ ادارہ تین ہزار سالہ قدیمی اور تاریخی قبرستان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ بعض شہریوں کا موقف ہے کہ یہ قبرستان شہر کا ورثہ ہے، اس کی حفاظت کی جانی چاہیے۔
مورخ سعد الکاموخ کے مطابق اس قبرستان میں ایسے لوگ بھی دفن ہیں جن کے بارے میں گمان ہے کہ سورج کی پوجا کرتے تھے۔ کیونکہ اکثر قبروں کا رخ مشرق کی طرف ہے۔
بہت ساری قبریں اتنی قدیم ہیں ان کا رخ قبلہ اول بیت المقدس کی طرف ہے۔ بعض قبروں پر عربی کا قدیمی رسم الخط تحریر ثبت ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہر احمد قشاش نے کہا ” 1500 سے زائد اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبریں بھی
العربیہ ڈاٹ نیٹ
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…