زندگی کی ڈور کو برقرار رکھنے کے لئے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے جس کے نتیجے میں گاؤں کے گاؤں خالی ہوگئے ہیں اور اب وہ ضلع کے شہروں میں جگہ جگہ بے یارومددگار پڑاؤ ڈالے بیٹھے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ خشک سالی کی وجہ سے ان کے مال مویشی ہلاک ہوچکے ہیں اور اب ان کے پاس کھانے کے لئے ہی کچھ نہیں ایسی صورت حال میں وہ بیمار بچوں کا علاج کیسے کراسکتے ہیں۔
ان خبروں کے میڈیا میں آنے کے بعد بھی ابھی تک حکمران ان لوگوں کی امداد کے لئے مناسب کارروائیاں نہیں کرسکے ہیں۔
ادھر پاکستان کی فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تھرپارکر کے متاثرہ علاقوں کی جانب حیدرآباد سے فوجی امدادی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں جو اپنے ساتھ راشن اور ادویات لے کر گئی ہیں۔ فوج نے متاثرہ علاقوں میں طبی کیمپ بھی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کے سربراہ میجر جنرل سعید علیم نے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں صورتحال اتنی خراب نہیں ہے جتنی کہ بتائی جا رہی ہے۔
ٹی آر ٹی اردو
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان