زندگی کی ڈور کو برقرار رکھنے کے لئے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے جس کے نتیجے میں گاؤں کے گاؤں خالی ہوگئے ہیں اور اب وہ ضلع کے شہروں میں جگہ جگہ بے یارومددگار پڑاؤ ڈالے بیٹھے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ خشک سالی کی وجہ سے ان کے مال مویشی ہلاک ہوچکے ہیں اور اب ان کے پاس کھانے کے لئے ہی کچھ نہیں ایسی صورت حال میں وہ بیمار بچوں کا علاج کیسے کراسکتے ہیں۔
ان خبروں کے میڈیا میں آنے کے بعد بھی ابھی تک حکمران ان لوگوں کی امداد کے لئے مناسب کارروائیاں نہیں کرسکے ہیں۔
ادھر پاکستان کی فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تھرپارکر کے متاثرہ علاقوں کی جانب حیدرآباد سے فوجی امدادی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں جو اپنے ساتھ راشن اور ادویات لے کر گئی ہیں۔ فوج نے متاثرہ علاقوں میں طبی کیمپ بھی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کے سربراہ میجر جنرل سعید علیم نے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں صورتحال اتنی خراب نہیں ہے جتنی کہ بتائی جا رہی ہے۔
ٹی آر ٹی اردو
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید