رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فروری 2014ء کے اختتام تک شام میں جھڑپوں میں ہونے والا جانی نقصان دوسرے نمبر پر ہے۔ جھڑپوں میں مارے جانے والے افراد کی تعداد 403 تک جا پہنچی ہے۔ اس کے علاوہ چھاپہ مار کارروائیوں اور گوریلا جنگ میں کم سے کم 247 فلسطینی پناہ گزین شہید کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 123 افراد شامی فوج کی ناکہ بندی اور محاصرے کے نیتجے میں خوراک اور ادویہ کی عدم دستیابی کے باعث شہید ہو گئے۔ 84 کو میدان جنگ میں مار دیا گیا جبکہ 54 کو قاتلانہ حملوں میں شہید کیا گیا۔34 افراد کی موت کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے جبکہ 33 فلسطینی بم دھماکوں میں مارے گئے۔ 30 کو اغواء کے بعد تشدد کر کے مارا گیا اور 26 فلسطینی نقل مکانی کےدوران سمندر میں ڈوب کر شہید ہو گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں دمشق کے قریب واقع یرموک مہاجر کیمپ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ شام کی سرکاری فوج نے پچھلے آٹھ ماہ سے اس کیمپ کا محاصرہ رکھا ہے، جس کے نتیجے میں کیمپ میں موجود لاکھوں شامی اور فلسطینی باشندوں کو خوراک اور ادیہ کے قحط کا سامنا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار