وہ اگلے بلدیاتی الیکشن میں بھی حصہ نہیں لے سکیں گے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کرس جو ہاننائیڈز نارتھ لندن کے علاقے انفیلڈ سے کونسلر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے برقعہ پوش خاتون اور بچی کی تصویر کو سماجی ویب سائٹ پر شیئر کرتے ہوئے بچی کو قریب پڑے گاربیج کے تھیلے سے تشبیہ دی تھی۔ ٹوری پارٹی نے انہیں بارہ ماہ کے لیے پارٹی سے نکال دیا ہے اور مئی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں بھی انہیں ٹکٹ نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ کنزریٹوپارٹی کے منتخب کونسلر کی جانب سے ایسے بیان پر مسلم کمیونٹی نے شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔
اردو ٹائمز
ملک کی نجات حقیقی گفتگو سے وابستہ ہے / پھانسیاں قوم اور حکومت کے درمیان…
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج