سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر واقع شوال پر فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
یہ کارروائی منگل کی صبح کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق اس بمباری میں عسکریت پسندوں کے کئی ٹھکانے تباہ ہو گئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق جیٹ طیاروں نے شوال کے پشت زیارت کے علاقے پرے غار اور رضان نالہ کے علاقوں پر بمباری کی۔
اس کے علاوہ جیٹ طیاروں نے شمالی وزیرستان ایجنسی کے گروم گاؤں کو بھی نشانہ بنایا۔
یاد رہے کہ قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کی عدم موجودگی میں ملک کے اس دور افتادہ علاقے سے آزادانہ ذرائع سےمعلومات حاصل کرنا ممکن نہیں ہے اور ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو سرکاری اور طالبان کی طرف سے کیے جانے والے دعوؤں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
واضح رہے کہ وزیرستان ایجنسی میں پانچ روز میں یہ دوسری کارروائی ہے۔
اس سے قبل بیس فروری کو شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی اور خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں دو مختلف کارروائیوں میں پندرہ عسکریت پسندوں کو جاں بحق کیا گیا تھا۔
اس کارروائی میں قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف دو کاروائیاں کی گئیں جن میں جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹرز کا استعمال ہوا۔
میر علی میں عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی دو ماہ میں دوسری کارروائی تھی۔
اس سے قبل 20 جنوری کو پاکستانی فوج کے ذرائع نے اسی علاقے میں جیٹ طیاروں کی کارروائی میں تین جرمن شہریوں سمیت 40 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔
خیال رہے کہ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی جب ایف سی کے 23 اہلکاروں کی طالبان کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور دونوں جانب کی مذاکراتی کمیٹیاں حملے روکنے اور جنگ بندی کی اپیلیں کر رہی ہیں۔
بی بی سی اردو
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان