ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت بغداد میں 4مختلف مقامات پر بم دھماکے ہوئے جس میں 10 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوگئے۔
ہلہ شہر میں مزید 3 کار بم دھماکے ہوئے جس میں 5 شہری ہلاک اور 22 زخمی ہوگئے۔ مصیب اور سکندریہ میں2اورکار بم دھماکوں میں 4 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے۔ عراق میں رواں ماہ پرتشدد واقعات میں 480 افراد مارے گئے ہیں۔ فوری طور پر کسی گروپ نے دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ اے ایف پی کے مطابق عراقی شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے عراقی حکومت کو کرپٹ قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی اور عراقی رہنمائوں کو ظالم بھی قراردیااور عراقی عوام سے کہا کہ وہ 2ماہ بعد ہونیوالے پارلیمانی انتخابات میں بھرپور شرکت کریں تاکہ بدعنوان لوگوں کے ہاتھوں میں حکومت پھر نہ چلی جائے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے خودکو عراق اور اسلام کیلیے وقف کردیا ہے۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان