ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت بغداد میں 4مختلف مقامات پر بم دھماکے ہوئے جس میں 10 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوگئے۔
ہلہ شہر میں مزید 3 کار بم دھماکے ہوئے جس میں 5 شہری ہلاک اور 22 زخمی ہوگئے۔ مصیب اور سکندریہ میں2اورکار بم دھماکوں میں 4 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے۔ عراق میں رواں ماہ پرتشدد واقعات میں 480 افراد مارے گئے ہیں۔ فوری طور پر کسی گروپ نے دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ اے ایف پی کے مطابق عراقی شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے عراقی حکومت کو کرپٹ قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی اور عراقی رہنمائوں کو ظالم بھی قراردیااور عراقی عوام سے کہا کہ وہ 2ماہ بعد ہونیوالے پارلیمانی انتخابات میں بھرپور شرکت کریں تاکہ بدعنوان لوگوں کے ہاتھوں میں حکومت پھر نہ چلی جائے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے خودکو عراق اور اسلام کیلیے وقف کردیا ہے۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار