پاکستان نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ایرانی وزیرِ داخلہ کے بیان میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے جیسے اس سلسلے میں پاکستان لاپروائی سے کام لے رہا ہے۔ پاکستان کی وزاتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ماضی میں دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے کے لیے بھرپور تعاون کرتا رہا ہے اور ایران کو اس کا مکمل طور پر علم ہے۔ بیان کے مطابق پاکستان نے پہلے ہی ایران حکام کو مطلع کر دیا ہے کہ اس کے فرنٹیئر کور کے دستوں نے پورے علاقے کو چھان مارا ہے لیکن مغوی ایرانی محافظین کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ یہ دہشت گرد مغوی محافظین سمیت ایران کی سرحد کے اندر ہی کہیں چھپے ہوئے ہوں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں ملکوں کے سکیورٹی ادارے ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ایران اور پاکستان کے اعلٰی سکیورٹی اہلکاروں کی ملاقات 19 فروری کو کوئٹہ میں طے ہے جہاں اس بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔ آخر میں بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے اندر مداخلت یا کارروائی کرنے کا کوئی حق نہیں اور دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کی سرحدوں کا احترام اور پاسداری کرنی چاہیے۔ گذشتہ روز ایرانی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ اگر پاکستان نے ایرانی سکیورٹی محافظین کو رہا کرانے کے لیے کچھ نہ کیا تو ایران پاکستان میں اپنے فوجی بھیج کر ان کو رہا کرانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ تقریباً دس روز پہلے ایرانی سنی گروپ جیش العدل نامی تنظیم نے پانچ ایرانی سکیورٹی گارڈز کو اغوا کر لیا تھا۔ یہ گروپ ایران کے صوبے سیستان بلوچستان میں سرگرم ہے۔ العریبہ نیوز چینل نےگذشتہ روز مغوی محافظین کی ایک ویڈیو نشر کی ہے جس میں ایک ایرانی محافظ کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ وہ خیریت سے ہیں اور ایران کو جیش العدل کے مطالبوں پر غور کرنا چاہیے۔
اردو ٹائمز
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید