راتوں رات بل کی منظوری لینے کے باعث ہونے والی لڑائی کے دوران کم از کم ایک رکن پارلیمنٹ کا چہرہ خون آلود ہو گیا۔ اس کے زخمی ہونے کی وجہ ناک پر لگنے والی چوٹ بنی ہے۔
واضح رہے ترک حکومت کو پچھلے چند ماہ سے مبینہ کرپشن الزامات کا سامنا ہے اور ان پراسیکیوشن سے متعلقہ شعبہ دیکھ رہا ہے۔ اس وجہ سے حکومت بیسیوں افسران کے تبادلے کر چکی ہے، جبکہ عدلیہ اور پراسیکیوشن کے اختیارات میں کمی بھی حکومت کا ہدف ہے۔
اپوزیشن کی سخت مخالفت کے باوجود پارلیمنٹ میں حکومت کا پیش کردہ بل زیر بحث لایا گیا تو اپوزیشن احتجاج شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔
عدلیہ کے بارے میں نئی قانون سازی کپشن الزامات کے حوالے سے بچاو کی ایر دوآن حکومت کی آخری کوشش تصور کی جا رہی ہے جو حکومت نے اپنے قانونی ماہرین سے طویل مشاورت کے بعد ایک بل کی صورت میں پیش کیا ہے۔
پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد اس قانون پر صدر کے دستخطوں سے یہ منظور کردہ بل باضابطہ قانون بن جائے گا۔ امید ہے اس قانون کے نفاذ سے حکومت کرپشن کیسز سے نجات پا سکے گی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان