سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق’حجت الاسلام علی یونسی‘ نے مقامی اخبار ’اعتماد‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے: ایران میں کوئی علیحدہ پسند تحریک نہیں ہے؛ غیرفارسی اقوام کو علیحدہ پسند کہنا جھوٹ کا پلندہ ہے۔
انہوں نے کہاہے: ذاتی طور بعض (شیعہ) علماء سے ملاقاتیں کرکے مجھے معلوم ہواہے اقلیتوں اور اہل سنت کے بارے میں مبالغہ آمیز اور جھوٹی رپورٹس جان بوجھ کر انہیں پہنچائی جارہی ہے۔ جس طرح دعوا کیاجاتاہے کہ ایران میں ’وہابیت‘ پھیل رہی ہے، اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بعض لوگ اہل سنت سے دشمنی کرتے ہیں، یہ لوگ نہیں کہہ سکتے ہمیں سنیوں سے دشمنی ہے تو اپنی سرگرمیاں’وہابیت‘ اور ‘سلفیت‘ جیسے الفاظ کے آڑ میں جاری رکھتے ہیں۔
اس سے قبل علی یونسی نے اہل سنت سمیت دیگر مذاہب ومسالک کے حقوق یقینی بنانے پر زور دیاتھا۔ سابق وزیرانٹیلیجنس اصلاح پسند صدر محمدخاتمی کے قریبی دوست اور اعتدال پسند صدر روحانی کے مشیرخاص برائے مسالک ومذاہب اور اقلیتی امور ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان