Categories: اسلام

(عورت سے شادی چار اشیاء کی وجہ سے کی جاتی ہے۔۔۔)حدیث کی شرح

یہ حدیث بخاری (4802) اورمسلم (1466) نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(عورت سے شادی چار اشیاء کی وجہ سے کی جاتی ہے، اس کے مال، حسب نسب، حسن، اور دین کیوجہ سے، دین دار کو پا لو تمہارے ہاتھ خاک آلود کر دے گی)
اس حدیث میں کسی بھی حسین ، یا حسب نسب والی یا مالدار خاتون سے نکاح کی ترغیب نہیں ہے۔
بلکہ اس حدیث کا معنی ہےکہ لوگ شادی کیلئے ان چار مقاصد کو سامنے رکھتے ہیں، کچھ تو حُسن تلاش کرتے ہیں، اور کچھ اچھا خاندان، اور کچھ مال کے بھوکے ہوتے ہیں، اور کچھ لوگ دینداری کی وجہ سےشادی کرتےہیں، اسی آخری کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترغیب دلائی ہےاور فرمایا: (دین دار کو پا لو تمہارے ہاتھ خاک آلود کر دے گی)
نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں کہا:
“اس حدیث کا صحیح معنی یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے متعلق بتلایا ہے کہ وہ شادی کرتے وقت کیا کرتے ہیں، تو عام طور انہی چار چیزوں کو مدّ نظر رکھا جاتا ہے، چنانچہ لوگوں کے ہاں آخری چیز دینداری ہے، راہنمائی کے طالب! تم دیندار کو ہی پسند کرنا، کہ تمہیں اسی کا حکم دیا جا رہا ہے۔۔۔ یہ حدیث ہر چیز میں دیندار لوگوں کی صحبت پر زور دے رہی ہے، کہ انسان انکی صحبت میں رہ کر انکے اخلاق، حسن معاملہ سے مستفید ہوتا ہےاور اُسے اِن کی طرف سے کسی نقصان کا ڈر نہیں ہوتا” انتہی مختصراً
مبارکپوری رحمہ اللہ تحفۃ الاحوذی میں فرماتے ہیں:
“قاضی رحمہ اللہ نے کہا: لوگوں کی عادت ہے کہ وہ خواتین کی مذہبی اور معاشرتی مناسبت سے انکی خاص صفات کو مدّ نظر رکھتے ہیں، جبکہ دین کو بنیادی حثییت ہونی چاہے کہ اسی کی بنیاد پر اپنایا جائے اور چھوڑا جائے، خصوصی طور پر وہ خصال جو دیر پا ہوں، اور اثرات زیادہ ہوں” انتہی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: (تمہارے ہاتھ خاک آلود کر دیگی) کے معنی میں بہت زیادہ آراء پائی جاتی ہیں، چنانچہ نووی نے شرح مسلم میں فرمایا:
“محققین کے ہاں سب سے قوی اور صحیح ترین قول یہ ہے کہ اس کا معنی اصل میں ہاتھوں کے خالی ہونے کے مترادف ہے، لیکن عرب کے ہاں کچھ کلمات استعمال کئے جاتے ہیں لیکن ان کا اصل معنی مراد نہیں ہوتا، جیسے “تربت یداک” تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، “قاتلہ اللہ”اللہ اسے برباد کرے، “ما اشجعہ”بڑا بہادر ہے، “لا أم له”اسکی ماں مرے، “لا أب لك”تیرا باپ نہ رہے، “َثَكِلَتْهُ أُمّه”تیری ماں تجھے گم پائے، “َوَيْل أُمّه” اسکی ماں ہلاک ہو، وغیرہ ، یہ الفاظ کسی چیز کے انکار ، ڈانٹ ڈپٹ ، مذمت، تعظیم، ترغیب، اور پسندیدگی کے اظہار کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ واللہ اعلم” انتہی .

اسلام سوال و جواب

 

 

 

modiryat urdu

Recent Posts

وہ مسلمان خاتون جس نے آکسفورڈ سے صدیوں قبل دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی تعمیر کروائی

فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔

2 hours ago

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے عمر‘ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…

3 days ago

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج

1 week ago

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نمازیں پڑھانے کا حکم

1 week ago

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید

1 week ago