فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم” اسیران اسٹڈی سینٹر” کے ڈائریکٹر فواد خفش نے بتایا کہ صہیونی فوجی بیت المقدس کے قدیم شہر میں شاہراہ عام پر ناکہ لگا کر تلاشی کی کارروائیوں میں مصروف تھے۔ اس دوران نادیہ اپنی ننھی بچی کو اسپتال لے جانے کے لیے وہاں سے گذری تو فوجیوں نے اس کی گاڑی روک لی۔ نادیہ لطفی کو بچی سمیت گاڑی سے اتار کر ایک فوجی جیپ میں ڈال دیا گیا اور اس کی کار بھی قبضے میں لے لی۔
خفش نے بتایا کہ نادیہ لطفی اسلامی تحریک مزاحمت[حماس] کے رہ نما اور سابق اسیر ایمن ابو عید کی اہلیہ ہیں۔ ایمن صہیونی جیل میں پندرہ سال قید رہ چکے ہیں۔ ان کے سات بچے بچیاں ہیں، جن میں سب سے چھوٹے کی عمر ایک سال ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید