فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم” اسیران اسٹڈی سینٹر” کے ڈائریکٹر فواد خفش نے بتایا کہ صہیونی فوجی بیت المقدس کے قدیم شہر میں شاہراہ عام پر ناکہ لگا کر تلاشی کی کارروائیوں میں مصروف تھے۔ اس دوران نادیہ اپنی ننھی بچی کو اسپتال لے جانے کے لیے وہاں سے گذری تو فوجیوں نے اس کی گاڑی روک لی۔ نادیہ لطفی کو بچی سمیت گاڑی سے اتار کر ایک فوجی جیپ میں ڈال دیا گیا اور اس کی کار بھی قبضے میں لے لی۔
خفش نے بتایا کہ نادیہ لطفی اسلامی تحریک مزاحمت[حماس] کے رہ نما اور سابق اسیر ایمن ابو عید کی اہلیہ ہیں۔ ایمن صہیونی جیل میں پندرہ سال قید رہ چکے ہیں۔ ان کے سات بچے بچیاں ہیں، جن میں سب سے چھوٹے کی عمر ایک سال ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان