فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم” اسیران اسٹڈی سینٹر” کے ڈائریکٹر فواد خفش نے بتایا کہ صہیونی فوجی بیت المقدس کے قدیم شہر میں شاہراہ عام پر ناکہ لگا کر تلاشی کی کارروائیوں میں مصروف تھے۔ اس دوران نادیہ اپنی ننھی بچی کو اسپتال لے جانے کے لیے وہاں سے گذری تو فوجیوں نے اس کی گاڑی روک لی۔ نادیہ لطفی کو بچی سمیت گاڑی سے اتار کر ایک فوجی جیپ میں ڈال دیا گیا اور اس کی کار بھی قبضے میں لے لی۔
خفش نے بتایا کہ نادیہ لطفی اسلامی تحریک مزاحمت[حماس] کے رہ نما اور سابق اسیر ایمن ابو عید کی اہلیہ ہیں۔ ایمن صہیونی جیل میں پندرہ سال قید رہ چکے ہیں۔ ان کے سات بچے بچیاں ہیں، جن میں سب سے چھوٹے کی عمر ایک سال ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار