الرحمن اللہ تعالی کی وسعت رحمت اور الرحیم اس رحمت کو مخلوق تک پہنچانے پر دلالت کرتا ہے ، تو الرحمن وسعت رحمت والا اور الرحیم پہنچانےوالا ۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ :
( الرحمن وسعت رحمت والا ہے ؛ اس لۓ کہ عربی میں فعلان کا وزن وسعت اور امتلاء پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ قول ہے ، رجل غضبان ، کہ جب اس میں غصہ بھر جاۓ تو اسے غصہ سے بھرا ہوا آدمی کہتے ہیں ۔
الرحیم : ایسا اسم ہے جو کہ فعل پر دلالت کرتا ہے ، کیونکہ یہ فعیل بمعنی فاعل ہے ، جو کہ فعل پر دلالت کرتا ہے ، تو الرحمن اور الرحیم میں جمع ہوگۓ ، اور الرحمن سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ وہ وسعت رحمت والا ہے اور الرحیم سے یہ اخذ کیا جاتا ہے کہ وہ اس رحمت کو مخلوق تک پہنچانے والا ہے ۔
اور بعض نے یہ کہا ہے کہ الرحمن میں رحمت عامہ اور الرحیم میں رحمت خاصہ جو کہ مومنوں کے ساتھ خاص ہے ، لیکن جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ ہی اولی ہے) انتہی ۔
دیکھیں شرح عقیدہ الواشطیۃ ( 1/ 22 )
واللہ تعالی اعلم .
الاسلام سوال وجواب
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام