الرحمن اللہ تعالی کی وسعت رحمت اور الرحیم اس رحمت کو مخلوق تک پہنچانے پر دلالت کرتا ہے ، تو الرحمن وسعت رحمت والا اور الرحیم پہنچانےوالا ۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ :
( الرحمن وسعت رحمت والا ہے ؛ اس لۓ کہ عربی میں فعلان کا وزن وسعت اور امتلاء پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ قول ہے ، رجل غضبان ، کہ جب اس میں غصہ بھر جاۓ تو اسے غصہ سے بھرا ہوا آدمی کہتے ہیں ۔
الرحیم : ایسا اسم ہے جو کہ فعل پر دلالت کرتا ہے ، کیونکہ یہ فعیل بمعنی فاعل ہے ، جو کہ فعل پر دلالت کرتا ہے ، تو الرحمن اور الرحیم میں جمع ہوگۓ ، اور الرحمن سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ وہ وسعت رحمت والا ہے اور الرحیم سے یہ اخذ کیا جاتا ہے کہ وہ اس رحمت کو مخلوق تک پہنچانے والا ہے ۔
اور بعض نے یہ کہا ہے کہ الرحمن میں رحمت عامہ اور الرحیم میں رحمت خاصہ جو کہ مومنوں کے ساتھ خاص ہے ، لیکن جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ ہی اولی ہے) انتہی ۔
دیکھیں شرح عقیدہ الواشطیۃ ( 1/ 22 )
واللہ تعالی اعلم .
الاسلام سوال وجواب
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار