یہ بات سیکیورٹی اورہسپتال حکام نے کہی۔ذرائع نے کہاکہ دھماکے پانچ مختلف علاقوں میں ہوئے ،خونی ترین حملہ بغدادکے جنوبی علاقے بایامیں کاربم دھماکہ تھاجس میں کم ازکم پانچ افرادہلاک اورپندرہ زخمی ہوئے ،دھماکے ایسے وقت ہوئے جب ایک روزقبل عراق میں ہونے والے حملوں میں سولہ افرادمارے گئے تھے ،جن میں سے نوکوبغدادمیں شراب کی دکانوں پرگولی مارکرہلاک کیاگیاتھا۔عراق میں تشدد2008ء کے بعدسے رواں سال اسی سطح تک پہنچ گیاہے ،جب ملک خونریزترین فرقہ وارانہ قتل عام سے نکل رہاتھا،بدامنی میں اس وقت اضافہ ہواجب سیکورٹی فورسزنے اپریل میں بغدادکے شمال میں سنی عربوں کے ایک احتجاجی کیمپ کواکھاڑدیاتھا،جس کے بعدجھڑپوں میں درجنوں افرادمارے گئے تھے ۔عراق کے سنی اقلیت کے ارکان جوشیعہ قیادت میں حکومت کے ہاتھوں امتیازی سلوک کی شکایت کرتے ہیں تقریباًہرسال احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں ۔حکومت نے قیدیوں کی رہائی اورالقاعدہ مخالف جنگجوؤں کی تنخواہوں میں اضافے سمیت سنی عربوں کوخوش کرنے کی خاطرکچھ اقدامات اٹھائے ہیں اوراس نے شدت پسندوں کیخلاف سیکورٹی آپریشن بھی شروع کررکھاہے ، تاہم روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے حملوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے، سکیورٹی اور ہسپتال ذرائع کی بنیاد پر اعدادوشمارکے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک تشدد میں 6250 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔
نوائے وقت
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…