اور دو مہینے میں حکومت سے عملدرآمد کی رپورٹ طلب کی ہے اور توہین رسالت کی سزا صرف اور صرف موت ہے اس کے علاوہ کوئی اور سزا دینا جائز نہیں ہے۔ جسٹس فدا حسین کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے حشمت حبیب ایڈووکیٹ کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست پر فیصلے سناتے ہوئے کہا کہ وفاقی شعی عدالت نے 1990 میں فیصلے دیا تھا کہ سزائے موت کے ساتھ جو عمر قید کا تفظ لکھا ہوا ہے اس کو حذف کر دیا جائے اور نکال دیا جائے۔ کسی بھی رسول کی اہانت قابل قبول نہیں ہے اور اس طرح کی اہانت کرنیوالا سزائے موت کا سزا وار ہے۔ حشمت حبیب نے شرعی عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ وفاقی شرعی عدالت کے 1990 کے فیصلے پر تاحال عمل نہیں کیا جا سکا اس پر عملدرآمد کا حکم دیا جائے اور عمل نہ کرنیوالوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ عدالت نے درخواست پر فیصلے دیتے ہوئے 2 ماہ میں قانون سے عمر قید کا لفظ نکالنے کا حکم دیا ہے۔
اردو ٹائمز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…