ہلاک ہونے والوں میں تین جنرل اور ایک بریگیڈیئر جنرل شامل ہیں۔ دھماکے سے فوج کے زیر استعمال عمارت بھی گر گئی۔ دوسری طرف شامی حزب اختلاف کے وزیردفاع اسعد مصطفی نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی فوج نے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں پر قبضے کے لیے منظم چڑھائی کررکھی ہے۔
اسعد مصطفی نے العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ”دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ پر بڑے منظم انداز میں چڑھائی کی گئی ہے۔ اس حملے میں مسلح فورسز کی بھاری نفری شریک ہے اور وہ توپخانے سے شدید گولہ باری کررہی ہے۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان