ہلاک ہونے والوں میں تین جنرل اور ایک بریگیڈیئر جنرل شامل ہیں۔ دھماکے سے فوج کے زیر استعمال عمارت بھی گر گئی۔ دوسری طرف شامی حزب اختلاف کے وزیردفاع اسعد مصطفی نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی فوج نے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں پر قبضے کے لیے منظم چڑھائی کررکھی ہے۔
اسعد مصطفی نے العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ”دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ پر بڑے منظم انداز میں چڑھائی کی گئی ہے۔ اس حملے میں مسلح فورسز کی بھاری نفری شریک ہے اور وہ توپخانے سے شدید گولہ باری کررہی ہے۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید