ہلاک ہونے والوں میں تین جنرل اور ایک بریگیڈیئر جنرل شامل ہیں۔ دھماکے سے فوج کے زیر استعمال عمارت بھی گر گئی۔ دوسری طرف شامی حزب اختلاف کے وزیردفاع اسعد مصطفی نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی فوج نے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں پر قبضے کے لیے منظم چڑھائی کررکھی ہے۔
اسعد مصطفی نے العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ”دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ پر بڑے منظم انداز میں چڑھائی کی گئی ہے۔ اس حملے میں مسلح فورسز کی بھاری نفری شریک ہے اور وہ توپخانے سے شدید گولہ باری کررہی ہے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…