امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست کنٹیکی کے شہر ہیبرون میں بین الاقوامی کوریئر کمپنی ’’ڈی ایچ ایل‘‘ میں کام کے دوران وقفوں میں باجماعت نماز کی اجازت دی جاتی تھی تاہم بعد میں کوئی بھی وجہ بتائے بغیر اسے ختم کردیا گیا اور اس کا اطلاق وقفے پر بھی کردیا گیا تاہم جب ادارے کے مسلمان ملازمین نے وقفے کے دوران باجماعت نماز ادا کی تو ان میں سے 24 کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔
امریکا میں مسلمانوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ’’تنظیم کونسل آن امریکن اسلامی ریلیشن‘‘ نے اسے امریکی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ باجماعت نماز کی ادائیگی مسلمانوں کا بنیادی حق ہے جو امریکی آئین نے انہیں دیا ہے اس لئے کورئیر کمپنی کی جانب سے ان کی برطرفی غیر قانونی ہے جس کی شکایت امریکا میں ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے سرکاری ادارے میں بھی کردی گئی ہے دوسری جانب کورئیر کمپنی نے اس معاملے میں اپنا موقف دینے سے انکار کردیا ہے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…