پاکستان طالبان نے جمعہ کو اعلان کیا کہ انہوں نے حکومت کے خلاف انتقامی حملوں کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔
طالبان شوریٰ کے سربراہ عصمت اللہ شاہین نے نامعلوم مقام سے رائٹرز کو بتایا کہ وہ سیکورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات، پولیس اور سیاسی رہنماؤں کو ہدف بنائیں گے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد شوری نے جمعرات کو ملا فضل اللہ کو گروپ کا سربراہ منتخب کیا تھا۔
سخت گیر موقف رکھنے والے ملا فضل اللہ کے چناؤ کے ساتھ ہی جنگجوؤں کے ساتھ حکومت کے امن مذاکرات کے امکانات ختم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
ٹی ٹی پی ترجمان شاہد اللہ شاہد کا گزشتہ روز کہا تھا کہ اب پاکستانی حکومت کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے کیوں کہ ملا فضل اللہ پہلے ہی ان مذاکرات کے خلاف تھے۔
شاہین نے مزید بتایا کہ طالبان کے مرکزی اہداف میں فوج اور پنجاب میں سرکاری تنصیبات بھی شامل ہیں۔
‘ہمارے پاس منصوبہ ہے، لیکن میں یہاں واضح کر دوں کہ ہم عام شہریوں، بازاروں اور پبلک مقامات کو ہدف نہیں بنائیں گے اور لوگوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں’۔
شاہین کے مطابق، پاکستان کے پاس ڈرون حملوں سے متعلق مکمل معلومات ہیں۔’ پاکستان امریکا کا غلام ہے، یہ امریکی کالونی ہے’۔
رائٹرز+ڈان
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…