اس لڑائی کے دوران 53 سے زائد لوگ مارے گئے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کی سرکاری افواج نے جنہیں لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی حمایت حاصل تھی جمعہ کی صبح شام کے اس شمالی شہر پر چڑھائی کی تھی جس کے نتیجے میں اس فوجی اڈے المعروف بیس 80 پر قبضہ کر لیا تھا تاہم انقلابیوں نے القاعدہ جنگجووں کے ساتھ جوابی حملہ کر کے اس اہم اڈے کا دوبارہ قبضہ لے لیا ہے۔ شام میں انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے والی آبزرویٹری کے مطابق انقلابیوں نے وہ فوجی اڈے سے متعلق وہ تمام علاقہ واپس لے لیا ہے جوگزشتہ روز سرکاری فوج کے قبضے میں گیا تھا۔ آبزر ویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ” اس لڑائی کے دوران 33 انقلابی اور 20 سرکاری فوج کے اہلکار مارے گئے ہیں۔
اردو ٹائمز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید