اس لڑائی کے دوران 53 سے زائد لوگ مارے گئے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کی سرکاری افواج نے جنہیں لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی حمایت حاصل تھی جمعہ کی صبح شام کے اس شمالی شہر پر چڑھائی کی تھی جس کے نتیجے میں اس فوجی اڈے المعروف بیس 80 پر قبضہ کر لیا تھا تاہم انقلابیوں نے القاعدہ جنگجووں کے ساتھ جوابی حملہ کر کے اس اہم اڈے کا دوبارہ قبضہ لے لیا ہے۔ شام میں انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے والی آبزرویٹری کے مطابق انقلابیوں نے وہ فوجی اڈے سے متعلق وہ تمام علاقہ واپس لے لیا ہے جوگزشتہ روز سرکاری فوج کے قبضے میں گیا تھا۔ آبزر ویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ” اس لڑائی کے دوران 33 انقلابی اور 20 سرکاری فوج کے اہلکار مارے گئے ہیں۔
اردو ٹائمز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار