میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولانا اعظم طارق نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے امیر حکیم اللہ محسود اب اس دنیا میں نہیں رہے وہ ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں نئے امیر کے تقرر کے حوالے سے افواہوں کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اس حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا نئے تقرر کیلئے مجلس شوریٰ کا اجلاس آئندہ دو یا تین روز میں ہو گا مذاکرات کے نام پر ہمارے ساتھ ٹوپی ڈرامہ چل رہا ہے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ڈرون حملے کے بعد طالبان سے مذاکرات کی بات دو تین ماہ کیلئے بھول جائے ڈرون حملے کے بعد مذاکراتی عمل ختم ہو گیا اور دو تہائی اکثریت سے منتخب ہونے والے وزیراعظم جلد ہی دبائو کا شکار ہونے والے ہیں ۔
اردو ٹائمز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان