Categories: مشرق وسطی

حجاج کی مناسک کی تکمیل کے بعد سعودی عرب سے واپسی کا آغاز

حجاز مقدس میں دنیا بھر کے ایک سو اٹھاسی ممالک سے آئے ہوئے چودہ لاکھ سے زیادہ حجاج کرام کی فریضٔہ حج کی تکمیل کے بعد واپسی شروع ہوگئی ہے۔

سعودی حکومت کی جانب سے جمعہ کو سرکاری طور پر اس سال کے حج کا اختتام کیا جارہا ہے لیکن اس سے ایک روز قبل ہی منیٰ میں تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنے اور آخری طواف کا عمل کرنے والے حجاج کرام کو اپنے اپنے آبائی ممالک کو واپس جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

جمعرات کوعلی الصباح ہی حجاج کرام نے منیٰ میں کنکریٹ کے بنے شیطان کے تین ڈھانچوں کو کنکریاں مارنے کے عمل کا آغاز کردیا تھا۔شیطان کو کنکریاں مارنے کی سنت ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے۔منیٰ کے اسی مقام پر شیطان نے انھیں ورغلانے اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کے حکم کے مطابق قربان کرنے سے روکنے کی کوشش کی تھی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شیطان کو کنکریوں سے دورمار بھگایا تھا۔

منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد حجاج کرام نے خانہ کعبہ کا آخری طواف (طواف زیارہ) کیا۔اس کے بعد وہ مکہ مکرمہ میں اپنے جائے قیام ہوٹلوں سے زادسفر لے کر آبائی علاقوں کی جانب جانے کے لیے سفر پر روانہ ہوگئے ہیں۔ان میں سے اکثریت ایک سو کلومیٹر دور واقع جدہ کی جانب رواں دواں تھی جہاں سے وہ بین الاقوامی پروازوں کے ذریعے اپنے اپنے ملک کو لوٹ جائیں گے۔

اس مرتبہ سعودی حکومت کے بے پایاں اقدامات کی بدولت حج کے موقع پر کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔سعودی حکومت نے حج کے موقع پر سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک لاکھ سے زیادہ فوجی تعینات کیے تھے۔حادثات اور بیماریوں سے پاک حج کی تکمیل کو سعودی حکام نے ایک بڑی کامیابی قراردیا ہے کیونکہ حج سے قبل مہلک وائرس مرس سے حجاج کے متاثر ہونے کے خدشے کا اظہار کیا جارہا تھا۔اس مہلک وائرس سے دنیا بھر میں ساٹھ افراد موت کے منہ میں چلے گئے ہیں اور ان میں سے اکاون صرف سعودی عرب میں مارے گئے ہیں۔

حکومت کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس مرتبہ حج کا فریضہ ادا کرنے والے فرزندان توحید کی تعداد بیس لاکھ سے کم رہی ہے جبکہ گذشتہ سال یہ تعداد بتیس لاکھ تھی۔دوسرے ممالک سے آنے والے حجاج کی تعداد تیرہ لاکھ اسی ہزار کے لگ بھگ رہی ہے۔ 2012ء میں غیرملکی حجاج کی تعداد ساڑھے سترہ لاکھ تھی۔

سعودی حکام نے حجاج کی کم تعداد کو بھی حج کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ قراردیا ہے۔مکہ مکرمہ اور اس کے آس پاس تمام مقدس مقامات پر حج کی نگرانی کے لیے پانچ ہزار سے زیادہ کلوز سرکٹ کیمرے نصب کیے گئے تھے۔ان میں سے مسجد حرام میں بارہ سو کیمرے نصب کیے گئے تھے۔ان تمام کا انتظام حج سکیورٹی کے لیے قائم کمانڈ اور کنٹرول سنٹر کے پاس تھا۔

سعودی وزیربرائے امورحج بندر حجار نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے ان کی وزارت کو حج کی بخیروخوبی ادائی کے لیے پچیس سالہ منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

العربیہ

 

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

3 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago