یہاں فوج کے زلزلہ ریلیف مرکز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل سمریز سالک نے کہا ہے کہ سالوں سے جاری لڑائی نے بلوچستان کے عوام کو کچھ نہیں دیا،میجر جنرل سمریز سالک پاک فوج کی 33 ڈویژن کی کمانڈ کر رہے ہیں جو زلزلہ متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے میں مصروف ہے، انھوں نے کہا زلزلہ زدہ علاقہ پہلے ہی ملک پسماندہ ترین خطہ ہے ان لوگوں کی مدد کیلیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اختلافات ختم کرنا ہوں گے، اگرچہ انھوں نے امدادی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم ان کا کہنا تھاکہ سب کچھ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے، جب ایکسپریس ٹریبیون نے ان سے وضاحت چاہی کہ ان کی بات کا مطلب باغیوں سے مدد کی اپیل بھی ہے تو انھوں نے کہا ہاں میرا مطلب ہر ایک سے ہے، تاہم پرتشدد واقعات کے باوجود فوج امدادی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔
انھوں نے کہا اس طرح کے واقعات فوج کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے البتہ مشترکہ کوششوں سے عوام کی زیادہ بھلائی ہو سکتی ہے،میجر جنرل سمریز سالک نے کہا کہ علاقے میں کوئی آپریشن نہیں کیا جارہا بلکہ فوج بڑے ضبط کا مظاہرہ کر رہی ہے، انھوں نے دوجوانوں کی شہادت اور ہیلی کاپٹرز پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ہیلی کاپٹر میں موجود تھے انھوں نے موٹر سائیکلوں پر مشکوک نوجوانوںکو دیکھا تھا لیکن ان پر فائرنگ کرنے سے منع کر دیا تھا کہ شاید وہ بے گناہ ہوں، زلزلے کے بعد علاقے میں تشدد کے 19 واقعات ہو چکے ہیں۔ جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل ثمریز سالک نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں 2632 ٹن امدادی اشیاء ، 34053 خیمے، 23200 کمبل تقسیم کئے گئے ہیں۔ فوج کے ڈاکٹروں نے 6048 بیمار اور زخمی افراد کا علاج کیا۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…