ابتدائی اطلاعات میں چار افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم بتایا گیا ہے کہ حملے کے بعد موقع پر فائرنگ کا زبردست تبادلہ ہوا ہے۔
پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور مقامی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ علاقے کو دہشت گردوں سے خالی کرا لیے جانے تک دور رہیں۔ تاکہ دو طرفہ فائرنگ کی زد میں آنے سے محفوظ رہ سکیں۔
فوری طور پر حملہ آوروں کی اس کارروائی کے مقاصد کا تعین نہیں ہو سکا ہے، ایک عالمی خبرساں ادارے کے موقع پر پہنچنے والے نمائندے کا کہنا کہ سکیورٹی اہکاروں نے پورے علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے۔
پولیس سربراہ ڈیوڈ کیمیاو کا کہنا ہے ہمارے افسران موقع پر موجود ہیں اور ان حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ابھی علاقے کے اندر ہی ہیں، تاہم عام شہریوں کے تحفظ کی خاطر احتیاط برتی جارہی ہے کہ کسی معصوم کو نقصان نہ ہو۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید