ابتدائی اطلاعات میں چار افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم بتایا گیا ہے کہ حملے کے بعد موقع پر فائرنگ کا زبردست تبادلہ ہوا ہے۔
پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور مقامی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ علاقے کو دہشت گردوں سے خالی کرا لیے جانے تک دور رہیں۔ تاکہ دو طرفہ فائرنگ کی زد میں آنے سے محفوظ رہ سکیں۔
فوری طور پر حملہ آوروں کی اس کارروائی کے مقاصد کا تعین نہیں ہو سکا ہے، ایک عالمی خبرساں ادارے کے موقع پر پہنچنے والے نمائندے کا کہنا کہ سکیورٹی اہکاروں نے پورے علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے۔
پولیس سربراہ ڈیوڈ کیمیاو کا کہنا ہے ہمارے افسران موقع پر موجود ہیں اور ان حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ابھی علاقے کے اندر ہی ہیں، تاہم عام شہریوں کے تحفظ کی خاطر احتیاط برتی جارہی ہے کہ کسی معصوم کو نقصان نہ ہو۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان