بدھ کو پولیس اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی یہ جھڑپ بدخشاں صوبے میں ہوئی جب اہلکار شدت پسندوں کے خلاف ایک آپریشن کرکے لوٹ رہے تھے۔
وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق ‘نگراں وزیر داخلہ کو 18 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر شدید افسوس ہوا ہے جو بدخشاں کے ضلع وردج میں پیش آیا تھا’
بیان میں کہا گیا ‘افغان پولیس اہلکاروں کا یہ گروپ ایک آپریشن کے بعد وردج ضلع کے نواح میں تھا کہ دشمن نے حملہ کردیا جسکے نتیجے میں بہادر افغان پولیس اہلکار ہلاک ہوئے’
مقامی اہلکاروں نے بھی اے ایف پی کو ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس علاقے کو عام طور سے نسبتاً پرامن تصور کیا جاتا ہے۔
مارچ میں اسی علاقے میں طالبان میں 17 افغان فوجیوں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا تھا۔
2014ء میں افغانستان سے نیٹو اور امریکی فورسز کے انخلاء کے قریب آنے کے ساتھ ہی افغان سیکورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آگئی ہے۔
افغان حکام اپریل میں عام انتخابات سے قبل ملک میں استحکام پیدا کرنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔
ڈان نیوز
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…