اس سرحدی علاقے میں موجود شامی حزب اختلاف کے کارکنان نے بتایا ہے کہ منگل کی شام اس بم دھماکے کے نتیجے میں دس بارہ افراد زخمی ہوئے ہیں اور انھیں نزدیک واقع اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا ہے کہ ترکی کی سرحد سے چند سو میٹر دور واقع بارڈر کراسنگ کے داخلی دروازے میں ایک بند شاہراہ پر بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے۔ یہ بارڈر کراسنگ شامی باغیوں کے ایک اسلامی بریگیڈ کے زیر قبضہ ہے اور انھوں نے ہی سرحد کی جانب جانے والی شاہراہ کو سکیورٹی کے نقطہ نظر سے بند کررکھا ہے۔ لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بھی اس بم دھماکے کی تصدیق کی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان