اس سرحدی علاقے میں موجود شامی حزب اختلاف کے کارکنان نے بتایا ہے کہ منگل کی شام اس بم دھماکے کے نتیجے میں دس بارہ افراد زخمی ہوئے ہیں اور انھیں نزدیک واقع اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا ہے کہ ترکی کی سرحد سے چند سو میٹر دور واقع بارڈر کراسنگ کے داخلی دروازے میں ایک بند شاہراہ پر بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے۔ یہ بارڈر کراسنگ شامی باغیوں کے ایک اسلامی بریگیڈ کے زیر قبضہ ہے اور انھوں نے ہی سرحد کی جانب جانے والی شاہراہ کو سکیورٹی کے نقطہ نظر سے بند کررکھا ہے۔ لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بھی اس بم دھماکے کی تصدیق کی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید