جنگی جرائم کے ٹربیونل نے انہیں رواں برس فروری میں انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کا مرتکب پایا تھا اور عمر قید کی سزا دی تھی۔ انہوں نے اس سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی تاہم عدالت نے اب ان کی سزائے قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عبدالقادر مْلا پر 1971 میں جنگِ آزادی کے دوران جرائم کے ارتکاب کے چھ الزامات لگائے گئے تھے۔ وہ ان الزامات سے انکار کرتے ہیں اور ملک کی اپوزیشن حکومت پر سیاسی انتقام لینے کے الزام لگاتی ہے۔ جنگی جرائم کے ٹربیونل نے گزشتہ چند ماہ کے دوران جنگ سے متعلق مبینہ جرائم پر جماعتِ اسلامی کے کئی رہنماؤں کو قید اور موت کی سزائیں سنائی ہیں۔ ان سزاؤں کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا بھی کہنا ہے کہ مقدمات کی سماعت کرنے والا ٹربیونل بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں بنایا گیا ہے۔ بنگلہ دیشی حکومت نے یہ خصوصی ٹربیونل 2010 میں بنایا تھا جس کا مقصد ان ملزمان پر مقدمہ چلانا تھا جنہوں نے جنگ آ ذادی کی مخالفت کی تھی۔ بنگلہ یش کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ 1971 میں جنگ کے دوران تین ملین افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ بعض محققین کے مطابق اس جنگ میں تین سے پانچ لاکھ کے درمیان لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
اردو ٹائمز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان