پاکستانی کے سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر سے شوکت خانم اسپتال میں دوران علاج گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور کے جلسے میں بلٹ پروف جیکٹ نہ پہنے ہوتی تو میری کمر کی ہڈیاں ٹوٹ جاتیں۔
عمران خان نے کہا کہ کراچی کے جلسوں میں بم دھماکوں کا خطرہ تھا اس لیے ملتوی کیے، مرزا قائد پر بھی صحافیوں سے گفتگو اور خطاب کرنا چاہتا تھا لیکن پارٹی رہنماؤں نے خطرات کے پیش نظر روک دیا۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنی بہن کو کراچی سے فون کرکے کہا کہ مجھے یہاں بہت خطرات ہیں اور آج ہی واپس لاہور آرہا ہوں، ایسا لگتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے، میری جان کا صدقہ کرو۔
عمران خان نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ انہیں طالبان کی جانب سے کوئی خطرہ ہے تاہم کسی دوسری قوت کا نام لیے بغیر انہوں نے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔
سونامی خان کے بقول وہ پارٹی رہنماؤں کے اصرار پر انتخابی جلسوں میں بلٹ پروف جیک پہن کر شریک ہو رہے تھے تاکہ کسی سانحہ سے بچا جاسکے۔
سابق کپتان نے ایک بار پھر کہا کہ لاہور جلسے میں مجھے کسی نے دھکا نہیں دیا یہ صرف انسانی غلطی تھی۔
دی نیوز ٹرائب
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار