پاکستانی کے سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر سے شوکت خانم اسپتال میں دوران علاج گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور کے جلسے میں بلٹ پروف جیکٹ نہ پہنے ہوتی تو میری کمر کی ہڈیاں ٹوٹ جاتیں۔
عمران خان نے کہا کہ کراچی کے جلسوں میں بم دھماکوں کا خطرہ تھا اس لیے ملتوی کیے، مرزا قائد پر بھی صحافیوں سے گفتگو اور خطاب کرنا چاہتا تھا لیکن پارٹی رہنماؤں نے خطرات کے پیش نظر روک دیا۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنی بہن کو کراچی سے فون کرکے کہا کہ مجھے یہاں بہت خطرات ہیں اور آج ہی واپس لاہور آرہا ہوں، ایسا لگتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے، میری جان کا صدقہ کرو۔
عمران خان نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ انہیں طالبان کی جانب سے کوئی خطرہ ہے تاہم کسی دوسری قوت کا نام لیے بغیر انہوں نے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔
سونامی خان کے بقول وہ پارٹی رہنماؤں کے اصرار پر انتخابی جلسوں میں بلٹ پروف جیک پہن کر شریک ہو رہے تھے تاکہ کسی سانحہ سے بچا جاسکے۔
سابق کپتان نے ایک بار پھر کہا کہ لاہور جلسے میں مجھے کسی نے دھکا نہیں دیا یہ صرف انسانی غلطی تھی۔
دی نیوز ٹرائب
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان