’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی فقہ اکیڈمی کے دوروزہ اجلاس میں اہل سنت والجماعت کے متعدد علمائے کرام نے شرکت کی جن کا تعلق صوبہ سیستان بلوچستان، خراسان رضوی، جنوبی خراسان، گلستان اور فارس سے تھا۔
اسلامی فقہ اکیڈمی کا اٹھارواں اجلاس ہفتہ ستائیس اپریل دوہزار تیرہ کی صبح سے آغاز ہوا جو اگلے دن شام تک جاری رہا۔
اکیڈمی کے ارکان نے اپنے اجلاس میں چھ اہم موضوعات پر بحث کرکے اپنے مضامین اور آراء پیش کی۔ ایران کے حنفی اور شافعی علمائے کرام نے ’مشین بندوق سے شکار‘ کے حکم، ’مہر موجل (ملتوی) جس کی قدر گرچکی ہو‘ ، ’ شیئرز‘، ’ مکان کے کرایے اور رہن (گروی)‘، ’عاجز یا مرحوم اساتذہ کی تنخواہ و سہولتوں‘ اور ’کفارہ قتل کے تعدد و تداخل‘ کے شرعی احکام پر بحث و گفتگو کی۔
سنی آن لائن
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید