’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی فقہ اکیڈمی کے دوروزہ اجلاس میں اہل سنت والجماعت کے متعدد علمائے کرام نے شرکت کی جن کا تعلق صوبہ سیستان بلوچستان، خراسان رضوی، جنوبی خراسان، گلستان اور فارس سے تھا۔
اسلامی فقہ اکیڈمی کا اٹھارواں اجلاس ہفتہ ستائیس اپریل دوہزار تیرہ کی صبح سے آغاز ہوا جو اگلے دن شام تک جاری رہا۔
اکیڈمی کے ارکان نے اپنے اجلاس میں چھ اہم موضوعات پر بحث کرکے اپنے مضامین اور آراء پیش کی۔ ایران کے حنفی اور شافعی علمائے کرام نے ’مشین بندوق سے شکار‘ کے حکم، ’مہر موجل (ملتوی) جس کی قدر گرچکی ہو‘ ، ’ شیئرز‘، ’ مکان کے کرایے اور رہن (گروی)‘، ’عاجز یا مرحوم اساتذہ کی تنخواہ و سہولتیں‘ اور ’کفارہ قتل کے تعدد و تداخل‘ کے شرعی احکام پر بحث و گفتگو کی۔
سنی آن لائن
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان