شام:’کیمیائی ہتھیاروں کے استمال کی تحقیقات کریں گے‘

امریکہ کے صدر براک اوباما نے شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاعات کی بھر پورا انداز میں تحقیقات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اگر ثابت ہوا تو یہ شام کی طرف امریکہ کی پالیسی میں تبدیلی کا بڑا محرک ہو گا۔
امریکہ اور برطانیہ دونوں نے شامی حکومت کی طرف سے نرو گیس سارین جیسے ہتھیاروں کے استعمال کے سامنے آنے والے ثبوتوں کی نشاندہی کی ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے وائٹ ہاؤس میں اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ’شامی کی آبادی کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال ہونے کے کچھ شواہد موجود ہیں۔لیکن یہ ہماری معلومات کی بنیاد پرابتدائی تجزئے ہیں۔‘
براک اوباما نے اصرار کیا کہ انہیں اب بھی مزید شواہد کی ضرورت ہے اور وعدہ کیا کہ اس کے لیے بھر پور تحقیقات کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کمیمائی ہتھیاروں کے استعمال کے ثبوت گیم جینجر یا بڑی تبدیلی کے محرک ہوں گے۔
اس سے پہلے برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہا تھا کہ شام میں حکومتی افواج کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ’محدود‘ ثبوت ملے ہیں تاہم ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ ’یہ انتہائی سنجیدہ صورتحال ہے۔ یہ تو جنگی جرم ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کی اس تنبیہ سے متفق ہیں کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال وہ ’سرخ لکیر‘ ہے جسے پار کرنے پر شام میں مداخلت کی جا سکتی ہے۔
تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ اسے ملنے والی خفیہ رپورٹوں میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاعات تو ملی ہیں لیکن اس استعمال کے ثبوت نہیں مل سکے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ’یقین کے مختلف درجوں‘ سے خیال ظاہر کیا ہے کہ شام نے باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ شام نے ’چھوٹے درجے پر‘ کیمیائی عامل سارِن گیس استعمال کی ہے، تاہم یہ نہیں بتایا کہ کہاں اور کب۔
کانگریس میں رپبلکن پارٹی کے ارکان نے جمعرات کو کانگریس کی جانب سے سخت ردِعمل کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ تخمینہ جمعرات کو قانون سازوں کو ایک خط میں پیش کیا گیا تھا جس پر وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر برائے قانونی امور مگیل روڈریریگز کے دستخط تھے۔
ایک خط میں کہا گیا تھا، ’ہمارے انٹیلی جنس اداروں نے یقین کے مختلف درجوں کے ساتھ تخمینہ لگایا ہے کہ شامی حکومت نے چھوٹے پیمانے پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں، خاص طور پر سارن گیس۔‘
ادھر جمعرات کو ابوظہبی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے امریکہ کے وزیرِدفاع چک ہیگل نے کہا تھا کہ سارِن کا استعمال جنگ کے تمام قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
خیال ہے کہ برطانیہ نے شام سے نمونے حاصل کیے ہیں جنھیں ایک دفاعی تجربہ گاہ میں ٹیسٹ کیا گیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا، ’شام سے حاصل کردہ مواد میں سارن پائی گئی ہے۔‘
اندازہ ہے کہ شام کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں، اور حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی برادری میں اس ذخیرے کے تحفظ کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
شام کی حکومت نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

3 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago