نیکولس مادورو کے حریف صدارتی امیدوار اینریک کیپریلس نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
وینزویلا کے سابق صدر اوگو چاویس نے نیکولس مادورو کو قائم مقام صدر مقرر کیا تھا اور ان کا مقابلہ میراندا ریاست کے گورنر اینریک کیپریلس سے تھا۔
انتخابی نتائج کے مطابق نیکولس مادورو کو50.7 فیصد جبکہ اینریک کیپریلس کو 49.1 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج تبدیل نہیں ہونگے جبکہ صدارتی امیدوار اینرک کیپریلس کے مطابق وہ اس وقت تک نتائج قبول نہیں کریں گے جب تک ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہیں کی جاتی کیونکہ ان کے خیال میں نیکولس مادورو انتخاب ہار گئے ہیں۔
اس سے پہلے انہوں نے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔کیپریلس گذشتہ اکتوبر میں سخت مقابلے کے بعد اوگو چاویس سے ہار گئے تھے۔
نیکولس مادورو کے مطابق انہوں نے اینرک کیپریلس سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے، حزب اختلاف نے انتخابی نتائج کی جانچ پڑتال کا کہا ہے اور وہ اس کی اجازت دیں گے۔
یکولس مادورو نے کہا کہ وہ لوگ ان سے مل کر ملک کے لیے کام کریں جنہوں نے انہیں ووٹ نہیں ڈالے۔
نیکولس مادورو نے صدارتی محل کے سامنے اپنے حمامیوں کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف ایک قانونی اور آئینی فتح حاصل کی ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق نتائج کے اعلان کے بعد دارالحکومت کراکس میں نیکولس مادورو کے حامیوں نے آتش بازی کی جبکہ کیپریلس کے حامیوں نے برتن بجائے۔
صدارتی انتحابات میں اسی فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے حصہ لیا۔
انتخابات کی شفافیت پر نطر رکھنے کے لیے مختلف ملکوں سے سینکڑوں مبصر اور بین الاقوامی تنظیمیں وینزویلا میں موجود ہیں۔
رواں سال پانچ مارچ کو صدر اوگو چاویس کے انتقال کے بعد سے نیکولس مادورو قائم مقام صدر کے عہدے پر فائز ہیں اور وہ انیس اپریل کو چھ سال کے لیے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
خیال رہے کہ اوگو چاویس نے چودہ سال تک وینزیلا پر حکومت کی تھی، انہوں نے آخری انتخابات گذشتہ اکتوبر میں جیتے تھے جس میں انہیں نے 54 فیصد جبکہ ان کے مخالف امیدوار ہنریک کاپرائلز کو 44 فیصد ووٹ ملے تھے۔
بی بی سی نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان