وہ جگر کے عارضے میں مبتلا تھے۔
فضل کریم چار اپریل سے فیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال میں زیر علاج تھے اور دو روز قبل وہ کومے میں چلے گئے تھے۔
صاحبزادہ فضل کریم وسطی پنجاب کے علاقے فیصل آباد سے قومی اسمبلی کے حلقہ بیاسی سے امیدوار تھے۔
فضل کریم چار اکتوبر انیس سو چون میں فیصل آباد میں پیدا ہوئے اور اکیس برس کی عمر میں جماعت اہلسنت کے مرکزی سیکرٹری جنرل بنے۔
صاحزادہ فضل کریم جمعیت علماء پاکستان نیازی گروپ کے مرکزی سیکرٹری جنرل رہے اور بعد میں اس کے سربراہ بن گئے۔
فضل کریم قومی اسمبلی کے حلقہ بیاسی سے دو مرتبہ مسلم لیگ نون کی ٹکٹ پر انتخاب لڑ چکے ہیں۔ تاہم اس بار وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں تھے۔
صاحبزادہ فضل کریم نے چار برس قبل سنی کونسل اتحاد تشکیل دیا اور وہ اس کے اتحاد سربراہ تھے۔
صاحبزادہ فضل کریم دو مرتبہ پنجاب اور دو بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔وہ شہباز شریف کے پہلے دورے حکومت صوبائی وزیر اوقاف بھی رہ چکے ہیں۔
سنی اتحاد کونسل کے سیکریٹری جنرل قاری حنیف طیب نے چند روز قبل یہ اعلان کیا تھا کہ صاحبزادہ فضل کریم اپنی علالت کے باعث مئی میں ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔
ان کے بقول حلقہ بیاسی سے فضل کریم کی جگہ ان کے بیٹے حامد رضا امیدوار ہوں گے۔
صاحبزادہ فضل کریم نے پسماندگان میں بیوہ، چار بیٹے اور ایک بیٹی سوگوار چھوڑی ہے۔
بی بی سی اردو
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار