سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردہ اس ویڈیو میں شیخ البوطی کو مسجد میں کرسی پر بیٹھے تقریر کرتے دیکھا جا سکتا ہے کہ اسی دوران زوردار دھماکے کی آواز آتی ہے اور منظر دھندلا جاتا ہے۔
دھماکے کے بعد امام البوطی اپنا عمامہ سنبھالتے ہوئے لمحے بھر کو سیدھا ہوتے ہیں اور اسی دوران حاضرین میں سے دو افراد ان کی مدد کو لپکتے ہیں۔ اگلے منظر میں علامہ البوطی کے سر اور منہ اور خون بہتا دیکھا جا سکتا ہے اور وہ گرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
اس ویڈیو کی صحت کے بارے میں العربیہ کسی دوسرے آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں کر سکا۔ حملے میں علامہ البوطی کے انتقال کے بعد ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں دعوی کیا گیا تھا کہ سنی عالم دین کا انتقال خودکش حملے میں ہوا ہے۔ تاہم ویڈیو کے بعد قیاس آرائیوں کے سلسلے میں تیزی آ گئی ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ بشار الاسد حکومت سے ہمدردی رکھنے والے چراسی سالہ عالم دین بم دھماکے میں نہیں بلکہ فائرنگ کر کے قتل کئے گئے۔
علامہ البوطی تاریخی جامعہ امویہ میں ہفتہ وار خطبہ دیتے تھے جنہیں شامی ٹی وی پر براہ راست نشر کیا جاتا رہا ہے۔ مرحوم عالم دین ٹی وی پر ایک مذہبی پروگرام بھی میں بھی باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام