ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر قدس پریس کو بتایا کہ مصری سیکیورٹی ایجنسیوں نے گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران قاہرہ میں رہائش پذیر فلسطینی اتھارٹی کے کئی سابق اہلکاروں کو طلب کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان اہلکاروں پرحماس رہنماوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کا شبہ ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ قاہرہ کسی بھی ایسی حرکت کی اجازت نہیں دے گا کہ جس سے مصر میں کشیدگی اضافہ ہو مگر اس نے اس سازش کی منصوبہ ساز پارٹی کو ظاہر نہیں کیا۔
فلسطینی اتھارٹی کے تقریبا چار ہزار سابق اہلکار 2006 سے حماس کے غزہ میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مصر میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ ان میں متعدد افراد کا تعلق غزہ سے نکالے گئے پرینوٹو سیکیورٹی کے محکمے سے بتایا جاتا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید