حلب شہرکی تاریخی مسجدجسے یونیسکونے عالمی ورثہ قراردے رکھا ہے پرقبضے کیلیے شدیدلڑائی ہورہی ہے اورباغی اس کے اندر داخل ہوچکے ہیں۔
باغیوں نے مسجدکے صحن میں داخل ہونے کیلیے اس کی جنوبی دیوارکوڈائنامائٹ سے اڑا دیا۔شہرکی شاندار پچی کاری سے مرسع محرابیں تباہ ہورہی ہیں۔
اس مسجدکے اندر سے چورپہلے ہی نبیؐ سے منسوب 3 موئے مبارک اوردندان کا ایک ٹکڑاچوری کرکے لے جاچکے ہیں۔اسی صوبے میں خان آصل میں موجود پولیس اکیڈمی پرقبضے کیلیے بھی شدیدجنگ ہورہی ہے۔باغی اکیڈمی کا داخلی دروازہ سرکاری فوج سے چھین کراس میں داخل ہوچکے ہیں۔
دمشق ، ادلیب ،رقا، دائر الزورمیں بھی جھڑپوں اوربمباری کی اطلاعات ملی ہیں۔شیخ یاسین کے علاقے پردومگ طیاروں نے تین گھنٹوں تک پروازکرکے کم ازکم 50بم گرائے۔
دمشق شہرمیں سرکاری فوج کی گولہ باری سے تین بچے ہلاک ہوگئے۔ باغیوں نے مشرقی صوبے دائرالزورمیں ایک جوہری تنصیب پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب شام کی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ باغیوں کے حملے سے قبل 3فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فوجیوں کو سازوسامان سمیت دوسرے مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا اور اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو اڈے کے معائنہ کی اجازت دینے کی تیاری مکمل کر لی گئی تھی۔
امریکی اخبارنیویارک ٹائمزکے مطابق سعودی عرب بلقان کی جنگ میں استعمال ہونیوالے ہتھیارکروشیاسے خریدکرشامی باغیوں کوفراہم کر رہا ہے۔
بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں فرینڈزآف سیریاکے رکن56 ممالک نے صدربشارالاسد حکومت کے خلاف مزیدسخت پابندیوں کا اعلان کیاہے۔ان ملکوں نے اپنے اجلاس میں عالمی برادری خاص طور پر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان پرزوردیاہے کہ وہ بحران کے حل کیلیے سرعت اورزیادہ ذمے داری کا مظاہرہ کریں۔
ایکسپریس نیوز
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید