Categories: مشرق وسطی

عراق میں حالات وہ نہیں جن کی توقع تھی

سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کو بتایا ہے کہ عراق میں روزمرہ زندگی ویسی نہیں ہے جس کی انھیں دس برس قبل عراق پر حملہ کرتے وقت امید تھی۔
انھوں نے مسلسل جاری دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ’خاصی بہتری‘ آئی ہے لیکن صورتِ حال’ وہ نہیں ہے جو ہونی چاہیے تھی۔‘
تاہم ان کا اصرار ہے کہ صدام حسین کی حکومت کے دوران حالات کہیں بدتر تھے۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ دنیا دس سال قبل کے مقابلے پر زیادہ محفوظ نہیں ہے، لیکن اگر حالات جوں کے توں رہتے توحالات خراب ہوتے۔
20 مارچ کو عراق پر امریکی قیادت میں ہونے والی حملے کی دسویں برسی ہے۔ سابق برطانوی وزیرِ اعظم کا یہ انٹرویو خاص طور پر اس موقع پر لیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ برطانوی فوجیوں اور شہری ہلاکتیں زیادہ رہی ہیں، لیکن صدام کے دور میں بھی کردوں کے علاقے میں اور ایران عراق جنگ کے دوران بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
ٹونی بلیئر نے کہا کہ ان کے خیال میں ’بطورِ منتخب وزیراعظم ایسے فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔‘
’سوال یہ ہے کہ اگر میں اس کے برعکس فیصلہ کرتا تو کیا ہوتا؟ بعض اوقات جو سیاست میں ہوتا ہے، اور بدقسمتی سے ان کے ساتھ دھوکہ دہی اور جھوٹ کے الزام بھی گڈ مڈ کر دیے جاتے ہیں۔ آخر میں آپ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں جس میں آپ جو بھی فیصلہ کرتے ہیں اس کے نتائج مشکل ہوتے ہیں اور انتخاب مشکل ہوتا ہے۔ یہ بھی ایسا ہی معاملہ تھا۔‘
انھو ں نے کہا ، ’اگر ہم نے صدام کو نہ ہٹایا ہوتا ، تو فرض کیجیے کہ عرب دنیا میں یہ انقلاب آ رہے ہیں، تو پھر صدام، جو شاید شام کے اسد سے 20 گنا برا ہے، وہ عراق میں مزاحمت کو کچلنے کی کوشش کرتا۔ اس کے مضمرات پر غور کیجیے۔‘
’اس لیے جب آپ کہتے ہیں کہ کیا میں 2003 کے بعد ہونے والی اموات کے بارے میں سوچتا ہوں ۔۔۔ لیکن سوچیے اگر حالات کو اپنی جگہ رہنے دیا ہوتا تو کیا ہوتا۔‘
سابق برطانوی وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ عراق کا معاملہ متنازع ہے: ’میں نے بہت عرصہ پہلے لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش چھوڑ دی تھی کہ یہ اچھا فیصلہ تھا۔ ‘
لیکن انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کی مکمل پیچیدگیوں کو سمجھنا دنیا کے لیے بے حد اہم ہے جو شام اور ایران میں اسی قسم کے مسائل سے دوچار ہے۔
عراق پر حملہ 20 مارچ 2003 کو شروع ہوا تھا جس میں برطانوی فوج نے امریکہ کے ساتھ حصہ لیا تھا۔ اس جنگ میں برطانیہ کے 179 سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔ برطانیہ نے اپریل 2009 میں اپنی فوج کو واپس بلا لیا تھا۔
اس دوران کتنے عراقی ہلاک ہوئے، اس کا صحیح صحیح پتا نہیں، لیکن محتاط تخمینہ یہ ہے کہ ایک لاکھ کے لگ بھگ عراقی مارے گئے تھے۔

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

5 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago