تفصیلات کے مطابق تصویر میں اسرائیلی فوج کے ماہر نشانچی کی بندوق کی نشست کے عدسے میں دنیا و ما فیھا سے بے خبر فلسطینی بچے کا سر نظر آ رہا ہے۔ یہ بچہ فوجی کی جانب پشت کر کے بیٹھا ہے اور اسے خبر نہیں کہ اس کی بے بسی اور معصومیت کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے والا شوقین صیاد خود کتنے بڑی آزمائش سے دوچار ہونے جا رہا ہے۔
اسرائیلی فوجی نے اپنی حماقت کی مجسم تصویر کی تشہیر کے لئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘انسٹاگرام’ پر اسے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں شیخی بگھارنے کی خاطر پوسٹ کر دیا۔ آن ہی آن میں یہ تصویر دنیا بھر کے سماجی نیٹ ورکس پر زیر بحث آنے لگی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے صہیونی فوجی کے اس ‘شاہکار’ کی مذمت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ ہر ذی ہوش اور باضمیر شخص نے اس تصویر پر اپنا مذمتی تبصرہ دیکر اسرائیلی فوج کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ وہ اس غیر ذمہ دار فوجی کے خلاف انضباطی کارروائی کا اعلان کرے۔
‘بریکنگ دی سائلنس’ نامی تنظیم نے صہیونی فوجی کی پوسٹ کردہ تصویر اور سن 2003ء میں بنائی جانے والی ایسی ہی متعدد تصاویر کی شدید مذمت کی۔ ان تصاویر کی نمائش اسی تنظیم کے پلیٹ فارم سے منعقد کی جا چکی ہے۔ انجمن نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ میں دونوں تصاویر کے درمیان موازنہ کیا ہے۔
تصویر کے بعد سامنے والے ردعمل سے خائف ہو کر اسرائیلی فوجی نے نہ صرف اپنے اکاؤںٹ سے تصویر بلکہ انسٹاگرام پر اپنا اکاؤنٹ ہی ختم کر دیا ہے، تاہم اس دوران اسرائیلی فوجی ترجمان نے اس اسکینڈل کے منفی مضمرات سے بچنے کے لئے روایتی مذمتی بیان داغتے ہوئے کہا کہ اس فعل کا ارتکاب کرنے والے فوجی کو چودہ دن کے ریمانڈ پر مزید تفتیش کے لئے کوارٹر گارڈ بھیج دیا گیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید